10 اکتوبر 2012 - 20:30

ناجی الشہابی نے کہا کہ امریکہ مصر کو چار امارتوں یا ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ امریکیوں نے 1986 میں منظور کیا تھا جو 2008 میں امریکی وزارت دفاع کے ایک جریدے میں شائع ہوا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  مصری سیاستدان اور الجیل پارٹی کے سربراہ ناجی الشہابی نے کہا کہ امریکہ مصر کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر کام کرنا شروع کیا ہے جس کے تحت ڈيلٹا کے علاقے میں اسلامی امارت، اسکندریہ میں عیسائی امارت، الصعید کے علاقے میں النوبیہ امارت اور سینا میں غزاوی فلسطینی امارت قائم کی جائے گی۔ انھوں نے کہا: یہ وہی امریکی منصوبہ ہے جو 1986 میں امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل میں منظور کیا گیا تھا اور 2008 میں امریکی وزارت دفاع کے ایک جریدے میں شائع ہوا تھا۔ الشہابی نے صحرائے سینا قبضے کی اسرائیلی دھمکی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صہیونی ریاست کو کھوکھلا ڈھول قرار دیا اور کہا: مصری فوج علاقے کی طاقتور ترین فوج ہے اور روایتی ہتھیاروں کے لحاظ سے اسرائیلی فوج سے کہيں زيادہ طاقتور ہے؛ اسرائیل جو جنوب لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ سے عہدہ برآ نہيں ہوسکا ہے اور امریکہ بھی حزب اللہ سے شکست کھا چکا ہے تو ایسی صورت میں اسرائیل صحرائے سینا پر قبضے کی جرأت کیونکر کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا: اسرائیل سینا پر دوبارہ قبضہ نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وہ مصر کے اندر کی کسی قوت کے سہارے سینا کو مصر سے جدا کروا دے اور اگر ایسا ہوا تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ مقامی قوتیں امریکی منصوبے پر عملدرآمد کریں گی۔ ناجی الشہابی نے کہا کہ امریکہ مصر کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر کام کرنا شروع کیا ہے جس کے تحت ڈيلٹا کے علاقے میں اسلامی امارت، اسکندریہ میں عیسائی امارت، الصعید کے علاقے میں النوبیہ امارت اور سینا میں غزاوی فلسطینی امارت قائم کی جائے گی۔ انھوں نے کہا: یہ وہی امریکی منصوبہ ہے جو 1986 میں امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل میں منظور کیا گیا تھا اور 2008 میں امریکی وزارت دفاع کے ایک جریدے میں شائع ہوا تھا اور اب امریکہ اس منصوبے پر عملدرآمد کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے مصری صدر محمد المرسی کی طرف سے چین، ایران، بھارت، روس، برازیل اور بعض دوسرے ممالک کے دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر اور مشرق وسطی کی سیاست اب امریکی تسلط سے خارج ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصر اسرائیلی دھمکیوں کو سنجیدہ لیا ہے اور مصری افواج جواب کے لئے تیار ہیں اور اگر ہم ان دھمکیوں کو سنجید لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مصری قوم صہیونی ریاست کے ساتھ جنگ کی فضا میں واقع ہوا اور یہ امر اس بات کا سبب بنے گا کہ ایک نیا مصر معرض وجود میں آئے جو اسرائیلی دشمن کا مقابلہ کرسکتا ہے اور نیتن یاہو کی دھمکیاں امریکی موقف سے مختلف نہيں ہیں کیونکہ ممکن ہی نہيں ہے کہ اسرائیل امریکہ اور اوباما کی اجازت کے بغیر مشرق وسطی میں کوئی مہم جوئی کرے یا اپنی دھمکیوں کو برملا کرے۔ انھوں نے کہا: صہیونی ریاست کے ساتھ مصر کے کیمپ ڈيويڈ امن معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ فریقین اس معاہدے کی تمام شقوں کا احترام کریں گے لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا احترام کررہے ہیں لیکن صہیونی ریاست اس کے احترام کا لحاظ نہيں کرتی چنانچہ یہ دھمکی کیمپ ڈیویڈ معاہدے کی یکطرفہ منسوخی کے مترادف ہے۔.....

/169