6 اکتوبر 2012 - 20:30

حکایت ہے کہ کسی صاحب نے اپنے غلام کو چور پکڑنے کے لئے بھیجا۔ غلام تھوڑی دیر بعد ہانپتا ہوا خالی ہاتھ واپس آیا۔ صاحب نے پوچھا: خالی ہاتھ کیوں آیا؟ کہنے لگا: وہ اپنے لئے بھاگ رہا تھا اور میں آپ کے لئے بھاگ رہا تھا لہذا وہ جیت گیا اور میں ہار گیا۔ ہمیں ان میں سے نہیں ہونا چاہئے جو اپنے لئے بہتر دوڑتے ہیں!

بحرین میں شیعہ مردوں اور عورتوں یعنی ہماری بہنوں اور بھائیوں کو شدید ترین آزار و اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے؛ شام میں امریکہ کی مدد سے مختلف النوع جرائم کا ارتکاب کیا جارہا ہے، شیعہ خاندان، تم کہو، میرے خاندان، کا قتل عام ہورہا ہے، اور ایک بچی ـ تم کہو میری چھوٹی بہن ـ کو پھانسی دی جارہی ہے۔ دوسری طرف سے علاقے کے انقلابات کو پیچیدہ امریکی حیلوں اور مکر و فریب کا سامنا ہے، اور مغرب میں برسوں سے عیسائی مردوں اور عورتوں کی فکر اور سوچ کو صہیونیوں نے اسیر کرکے غلام بنا رکھا ہے اور دنیا کے اکثر انسان صہیونی تشہیری نیٹ ورک کے زیر اثر، اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کے سائے میں زندگی کی لذت و مٹھاس سے محروم ہیں۔ہر طالبعلم اور ہر دلسوز اور دردمند شیعہ نوجوان اور بڑے بوڑھے کو طاغوتوں کے خلاف جنگ اور ظالم و ستمگر طاغوتوں سے مظلوموں کی نجات اور ان کا ہاتھ اہل بیت علیہم السلام کے پرمہرومحبت ہاتھ میں دینے کے لئے اس فرصت سے استفادہ اور اس ذمہ داری پر عمل کرنا چاہئے۔  اگر آپ پر عزم ہیں تو میرے خیال میں نرم جنگ کے حوالے سے حجت الاسلام و المسلمین علی رضا پناہیان کے اہم نکات آپ کے لئے بھی مفید ہوسکتے ہیں؛ ہم میں سے ہر ایک ایک کو ہر روز آدھا گھنٹہ دنیا کی مختلف قوموں کی خدمت میں گذارنا چاہئے؛ تا کہ وہ وعدے جو ہر روز ہم دعائے عہد میں دیتے ہیں، عمل کے بغیر اور صرف الفاظ میں محدود نہ رہیں۔ نکتے: • نرم جنگ میں نامنظم اور بےقاعدہ جنگ (Irregular Warfare) لڑنی چاہئے یا منظم جنگ (Regular Warfare) لڑنی چاہئے؟ ... نرم جنگ میں دشمن منظم عمل کرتا یے؛ اس کا مطلب کیا ہے؟• بعض اوقات، تم عالمانہ گفتگو کی توقع نہ کرو، لوگوں کی فطرت سے رابطہ برقرار کرو ... جاؤ ایک وار کرو ـ ایک بات کرو ـ اور واپس آؤ۔• جنگ میں دو طرح کا عمل کیا جاسکتا ہے؛ منظم اورکلاسک جنگ اور گوریلا اور بےقاعدہ جنگ یا بالفاظ دیگر چھاپہ مار جنگ۔• منظم اور کلاس جنگ کی خصوصیت یہ ہے کہ فوجی افسران اور جوان صفیں تشکیل دیتے ہیں، اس کے بعد ریڈ سے قبل توپخانہ گولہ باری کرتا ہے اور اس کے بعد حملہ شروع کیا جاتا ہے اور پیدل افواج آگے آتی ہیں۔• لیکن بےقاعدہ اور غیرمنظم جنگ کی کیفیت کیا ہے؟ اس جنگ میں تمہيں صف تشکیل دینے کی ضرورت نہیں ہے، ممکن ہے کہ بہت سے علاقوں میں دشمن پشقدمی کرے لیکن تم کہتے ہو کہ اس کی کوئی اہمیت نہيں ہے، تم یہ نہیں کہتے ہو کہ دشمن کے صفر سے 100 تک کو نیست و نابود کرنا چاہئے، جاتے ہو اور ایک کاری ضرب مارتے ہو اور واپس آتے ہو۔ • اب میں ایک نمونہ برداری کرنا چاہتا ہوں نرم جنگ کے لئے۔ نرم جنگ میں اگر دشمن منظم عمل کرنا چاہے تو کیا کرے گا؟ اکیڈمکس میں سے ایلیٹس کو چنتا ہے، ٹیکنیشنز، سائنسدان سب کو اس کے افکار کے تحت کام کرنا پڑتا ہے؛ چونکہ اس نے جامعات کے اہم ترین افراد کی صف تشکیل دی ہے، اسی لئے حصولیابیوں (Acheivements) پر اپنے اثرات مرتب کرتا ہے، ایک ثقافت اور کلچر کو ترتیب دیتا ہے، تم ایک فلم بھی اس کی نرم جنگ کے دائرے سے باہر نہيں پاؤگے، ایک فوج نرم جنگ کے لئے۔• میرے دوستو! ہمیں جنگ نرم کی اس منظم جنگ کے مقابلے میں غیرمنظم اور گوریلا جنگ لڑنا ہے۔• ہمیں نامنظم انداز سے عمل کرنا چاہئے، جاکر ایک وار کریں اور واپس آئیں؛ یہ خطا ہوگی کہ ہم سوچیں کہ ہمیں ہمیشہ نرم جنگ میں منظم عمل کرنا چاہئے۔ • کلاس نرم جنگ، یعنی یہ کہ جو بھی ولایت فقیہ کا دشمن ہے، ہم پہلے اس کو قائل کریں، ابتداء میں ہم اپنے اندر سے شروع کرتے ہیں، اس کے بعد بیرون ملک چلے جائیں، ہم اس قدر ولایت فقیہ کے بارے میں علمی بحث کرتے ہيں، حتی کہ جامعات کے مفکرین و ماہرین کی سطح تک پہنچے، بعد میں چند افراد جاکر پڑھیں اور علم حاصل کریں، بعد میں یہ آکر قانوندان بنیں، بعد میں یہ لوگ آکر ملکوں کا آئین بدل دیں ... میرے دوست! حقیقت پسندی اپناؤ! کیا جنگ اس طرح لڑي جاتی ہے؟• جنگ نرم میں سائنس اور تجربے کو ترجیح دینا نامنظور! بعض اوقات عالمانہ گفتگو کا منتظر نہيں ہونا چاہئے بلکہ لوگوں کی فطرت سے ربط و تعلق جوڑنا چاہئے۔• تم اپنا درست تعارف کراتے ہو، صرف اپنے آپ کو درست متعارف کراؤ تو نہ دلیل و ثبوت لانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی کو کوئی سفارش کرنے کی ضرورت ہے، تم صرف حقائق کا صحیح انداز سے بیان کرو ... تم جاؤ دنیا والوں سے کہہ دو کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ولایت فقیہ کی یہ افادیت ہے، حضرت امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) نے فرمایا: ولایت فقیہ آمریت کا سد باب کرتی ہے، ورنہ جمہوریت ولایت فقیہ کے بغیر آمریت میں بدل جاتی ہے!• تم عیسائی ہو؟ عیسائی رہو؛ یہودی ہو؟ یہودی رہو؛ کیا تم کسی دین کے قائل نہيں ہو؟ قائل نہ رہو؛ آمریت کی فضا میں رہ رہے ہو؟ رہو؛ جمہوری اور آزاد معاشرے میں رہ رہے ہو؟ رہو؛ ہم یہ ہیں! سمجھے؟ یہی کہہ دو اور واپس آؤ۔ تمہيں مزید کچھ بھی نہيں کرنا، نابود ہوجاتا ہے، دشمن نابود ہوجاتا ہے!• عیسائی دنیا کی مشترکہ زبان حضرت مریم (سلام اللہ علیہا) ہیں۔ حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کی بات کرو؛ حتی ضروری نہیں ہے کہ تم حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کے مصائب پڑھو۔ کہہ دو کہ ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ایک بیٹی ہے فاطمہ، اور آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مسلسل فرماتے رہے: فداها ابوها باپ فدا ہو فاطمہ پر! دنیا والے اس پیغمبر کی ہرگز توہین نہیں کرسکیں گے جن کی بیٹی کا نام فاطمہ ہے۔• میرے دوستو! لیس ہوجاؤ نرم جنگ کے ہتھیاروں سے، عربی اور انگریزی میں ویب لاگ ... دنیا تمہاری خوراک ہے ... اس قدر ان کے دل تیار ہیں ... تم نصیحت نہ کرو کہ وہ جاکر اچھا انسان بنے، نہ کوئی دلیل لاؤ، دنیا اس وقت کچھ اس طرح کی ہے، صرف بیان کرو!• بابا! دل ... فطرت ... فطرت ... فطرت اہم ہے! انسان انسان ہیں بابا! سب کے دل میں مرض تو نہیں ہے نا ...• اور تم کیا جانتے ہو کہ ابا عبداللہ الحسین (علیہ السلام) کے علی اصغر کے ذریعے دنیا کے کتنے کروڑ انسانوں کو آزاد کرایا جاسکتا ہے! ...• اور تم کیا جانتے ہو کہ عاشورا کیا ہے، کربلا کہاں ہے، اور امام حسین کون ہیں، امام حسین (علیہ السلام) کو دنیا کے دل جیتنے تو دو ...علی رضا پناہیان کےکلام کا اختتام..........اور ہاں!

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین (ع)

کیا ہم نے آج تک اس شعر کے مطابق انسان کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے؟ کیا یہی شعر دہرا دہرا کر انسان کو بیدار کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہم نے آج تک امام حسین (ع) کا تعارف کرانے کی کوشش کی ہے؟ کیا امام حسین (ع) انسان کی آزادی کے علمبردار نہيں ہیں ظالموں کے چنگل سے؟ دنیا کو امام حسین کا تعارف کراؤ تا کہ ہر قوم پکارے کہ "ہمارے ہيں حسین (ع)

ہمارے امتیازی نشانات میں سے ایک انتظار مہدی (ع) ہے، کیا ہم اپنے زمانے کے امام کو پہچانتے ہيں؟ کیا ہم نے امام کا تعارف کرایا ہے؟ کیا امامت کا سلسلہ امام زمان (ع) پر ختم نہيں ہوتا؟ کیا ہم نے امامت کے اس تسلسل پر کبھی غور کیا ہے؟ کیا ہم نے عاشورا اور کربلا کو امام کے تعارف کا ذریعہ بنایا ہے؟..........

/110