4 اکتوبر 2012 - 20:30

عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی شورائے عالی کے رکن نے کہا: انقلاب بحرین ایک چھوٹے سے جزيرے میں رونما ہوتا ہے لیکن خلیج فاس میں امریکی شان و شوکت اور ہیبت و قوت کو توڑنا چاہتا ہے اور خطے میں امریکہ و برطانیہ کے عقبی پناہگاہ کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے رکن شورائے عالی نے  کہا کہ بحرینی عوام بظاہر ایک ایک چھوٹے سے شکست خوردہ اور روسیاہ حکمران کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ادیان و مذاہب یونیورسٹی کے سربراہ اور عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی شورائے عالی کے رکن حجت الاسلام والمسلمین سیدابوالحسن نواب جمعرات کی شام کو "اسیر قائدین" کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے جس میں بحرین کے انقلابی جمعیتوں اور گروپوں کے نمائندے اور بعض بحرینی شہداء کے اہل خانہ بھی شریک ہوئے تھے۔انھوں نے کہا: اسلامی بیداری کے سب سے زیادہ مظلوم عوامی انقلاب کے بارے میں اظہار خیال کرنا، بہت مشکل ہے اور ایک چھوٹے ملک کے بارے میں بات کرنا، جس نے ایک بہت بڑے انقلاب کا آغاز کیا ہے، اور ایک ایسے ملک کے بارے میں بات کرنا جس نے پورے کفر کے پنجے میں پنجہ ڈال دیا ہے، بہت دشوار ہے۔ انھوں نے کہا: مظلوم بحرین نے آج ایسے انقلاب کا آغاز کردیا ہے جس میں وہ بظاہر ایک چھوٹے سے شکست خوردہ حکمران کے خلاف لڑرہا ہے لیکن درحقیقت وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے خلاف برسرپیکار ہے۔ انھوں نے کہا: یہ انقلاب ایک چھوٹے سے جزیرے میں ہی رونما نہيں ہورہا ہے بلکہ درحقیقت خلیج فارس میں امریکہ کی پوری شان و شوکت اور ہیبت و قوت کو چیلنج کرچکا ہے۔نواب نے کہا: بحرینی عوام علاقے میں امریکہ اور انگلستان کے پچھواڑے کے خاتمے کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں اور عالم اسلام اور اسلامی بیداری میں ہمارا مسئلہ فرانس کا صدر، اٹلی کا وزیر اعظم یا امریکہ کا صدر نہیں ہے بلکہ ہمارا مسئلہ عالم اسلام کے اندر کا سرطانی پھوڑا ہے؛ حقیقی سرطانی پھوڑے سعودی ملک عبداللہ اور قطری کے امیر ہیں؛ مسئلہ امریکہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ ہمارے اندر ہی ہے۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے رکن نے کہا: آج آپ شہداء اور اسیروں کے محترم اور معزز گھرانے جراحی کا تیغ ہاتھ میں لے کر ایک سرطانی پھوڑے کو ہٹا دینا چاہتے ہیں اور آپ درحقیقت پورے عالم اسلام کے لئے قربانی دے رہے ہيں اور فدا ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ امیر قطر حماس کو بھی پناہ دیتے ہيں اور اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات بھی کرتے ہیں اور فلسطینی مزاحمت کو توڑنے کے لئے سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں۔نواب نے مجاہد گروپوں کی طرف سے امیر قطر کی منافقت کی طرف توجہ نہ دینے کے حوالے سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میں نہيں جانتا کہ ہمارے عرب برادران سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں؟ اس بات کے کیا معنی ہوسکتے ہیں کہ ایک شخص انقلابی اور حماس کا رکن کہلوائے اور قطر کی یاترا بھی کیا کرے؟ قطر دشمن کا گھونسلا ہے اور عالم اسلام کا اعلانیہ دشمن ہے۔ اگر عالم اسلام اپنے جسم کی جراحی (سرجری) کرے اور اس سرطانی پھوڑے کو اکھاڑ پھینکے تو اس کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا: شام کے مسئلے نے بھی یورپ یا امریکہ سے جنم نہیں لیا ہے یہ مسئلہ بھی عالم اسلام کے اندر ہی سے شام میں سرایت کرگیا ہے، اگر امیر قطر شام میں اشتعال انگیزیوں سے باز آئے، شام کی صورت حال بری نہیں ہے اور مغربی ممالک شم میں کجھ زیاد سرمایہ خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔انھوں نے کہا: جس چیز نے امیر بحرین کو باقی رکھا ہے وہ پورا عالمی کفر ہے۔ امیر بحرین کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن استکباری محاذ پورا کا پورا اس کی پشت پر کھڑا ہے اور اس کو تحفظ دے رہا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ امیر بحرین کی شکست سے خلیج فارس کی تمام ریاستوں کے حکام شیشۂ عمر ٹوٹ جائے گا اور حلقہ وار زوال کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے سیکریٹری نے کہا: شاید کہ بحرین مظلوم اور اس کے شہیدوں اور اسیروں کو صدر اسلام اور کربلا کے شہیدوں اور اسیروں سے تشیبہ دینا بجا ہو؛ شہدائے کربلا عددی لحاظ سے کم تھے لیکن انھوں نے اسلام کے تحفظ کے لئے ایک عظیم واقعے کو رقم کیا۔ قیام کربلا، اسلام کی تصحیح کے لئے ایک بہت بڑی تحریک ہے۔ طے پایا تھا کہ نبوی راستہ اموی راستے میں بدل دیا جائے لیکن کربلا نے اموی تحریک کو ناکام بنایا اور نبوی مکتب کو قائم و دائم رکھا۔ حجت الاسلام و المسلمین سید ابوالحسن نواب نے صراحت کے ساتھ اعلان کیا: آج بحرینی عوام ایک ملک کی آزادی کے لئے نہيں لڑ رہے ہيں۔ میں یہ جملہ ادا کرتا ہوں اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہوں کہ "آپ بحرینی عوام سعودی کفر، قطری کفر اور ان دونوں سے بدتر امریکی کفر کے خلاف لڑ رہے ہیں"؛ یہ کفر آشکار اور اعلانیہ نہیں ہے بلکہ مخفی اور اموی کفر ہے۔ یہ وہی معاویہ جیسے لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے منصب پر بیٹھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ "خادم الحرمین" خازل الحرمین اور حرمین شریفین کے لئے ذلت کا باعث ہے۔ لہذا آپ بحرینی عوام، پوری عربی منافقت کے خلاف لڑ رہے ہیں؛ آپ ایک چھوٹے ملک کے باشندے ہیں لیکن ایک عظیم نفاق (منافقت) اور ایک عظیم کفر اور کینسر کے دو عظیم پھوڑوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ لہذا آپ اپنی اور اپنی تحریک اور اپنے شہداء کی قدر و قیمت کو سمجھیں۔انھوں نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ بحرینی عوام کا کام جنوبی لبنان میں صہیونیوں کے خلاف لڑنے والی حزب اللہ کے کام کی نسبت زيادہ اہم اور زيادہ مشکل ہے؛ کیونکہ آپ بحرینی عوام ایسے لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جنھوں نے عالم اسلام کے راہنماؤں کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے لیکن درحقیقت عالمی کفر کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ بلادالحرمین کے تیل اور قطر کی گیس نے اس کفر و نفاق کو علاقے میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا: ہم بھی اپنے انقلاب کے مختلف مراحل میں ـ جبکہ صدام کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کا سامنا کررہے تھے ـ منافقین کی طرف سے بڑے نقصانات اٹھائے؛ محاذ جنگ میں دشمن کی صفیں صاف واضح تھیں لیکن منافقین پیچھے سے وار کرتے تھے اور ہمارے بہت سے اکابرین اور شخصیات نفاق کے خلاف جنگ میں ہم سے بچھڑ گئیں۔ادیان و مذاہب یونیورسٹی کے سربراہ نے کہا: آل خلیفہ اور آل سعود کے خلاف آپ کی جنگ شیعہ اور سنی کی جنگ اور فرقہ وارانہ لڑائی یا پھر زمین کے لئے جنگ نہيں ہے بلکہ اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے کفر کے خلاف جنگ ہے جو بہت زيادہ دکھ اور صدمے کا باعث اور بہت زيادہ مشکل ہے۔ انھوں نے کہا: ہوسکتا ہے کہ بحرین کا انقلاب کئی برسوں تک طویل ہوجائے کیونکہ اس ملک میں پورا کفر پورے اسلام کے سامنے آکر کھڑا ہوا ہے۔ یہ بڑی بات نہیں ہے کہ بحرین ایک چھوٹا سا ملک ہے بلکہ اہم بات موقف کی ہے۔ کربلا بھی چھوٹی سی سرزمین تھی لیکن اسلام کی تصحیح کا نمونہ اور تاریخ کی اصلاح کا معیار قرار پائی۔  انھوں نے کہا: آپ نے کفر و منافقت کو تخت اقتدار سے نیچھے پھینکنے کا ارادہ کیا چنانچہ آپ یہ نعرہ ـ کہ "الشعب یرید اسقاط النظام" ـ کبھی بھی تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔ آپ کسی صورت میں بھی آل خلیفہ خاندان کے زوال سے کم کسی رعایت پر راضی نہ ہوں کیونکہ آل خلیفہ کی سرنگونی در حقیقت دوسری تمام بےبنیاد آمریتوں کا زوال ہے۔انھوں نے کہا: بحرین آپ عرب زباں باشندوں کی اصطلاح میں "بوابة الخلیج الفارسي (خلیج فارس کا دروازہ) ہے، دوسروں کی حمایت نے آل خلیفہ کو زندہ رکھا ہے اور اگر بحرین کی حکومت کا تختہ الٹ جائے تو دوسروں کا تختہ بھی الٹ جائے گا۔نواب نے کہا: آپ کا انقلاب خلیج فارس کے جنوب میں اسلامی انقلاب کی پہلی تحریک ہے، آپ کو مشکلات برداشت کرنا پڑیں گی۔  ہم اللہ سے آپ کے لئے قوت و حوصلے اور صبر و استقامت کی دعا کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم بھی اسلامی ممالک میں آپ کے حامی کے عنوان سے، آپ کے اس انقلاب کے پیامبر کی حیثیت سے، اپنا کردار بخوبی ادا کرسکیں اور بحرینی عوام کی صدائے مظلومیت دنیا والوں تک پہنچا سکیں۔ حجت الاسلام والمسلمین نواب نے آخر میں کہا: ان طاغوتوں کے زوال تک چین سے نہ بیٹھیں اور جان لیں کہ آپ کی یہ کربلائی تحریک آنے والی تاریخ اور آپ کی ملکی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید رہے گی۔ میں اپنا خطاب اس نعرے پر ختم کرتا ہوں "ثورة ثورة حتی النصر" (انقلاب انقلاب کامیابی تک)۔اس تقریب میں انقلاب 14 فروری کے ایک راہنما "‏عبدالرؤوف الشائب"، "شہید ابوتاکی" کے والد اور "شہید علی جواد الشیخ" کے والد نے بحرینی عوام کی مظلومیت اور آل خلیفہ خاندان کے مظالم کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ واضح رہے کہ یہ سیمینار "بین الاقوامی امت واحدہ فاؤنڈیشن"، کے زير اہتمام قم المقدسہ کے دفتر تبلیغات کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا تھا اور ملک بھر کے عوامی اور اکیڈمک فورموں نے اس کے انعقاد میں تعاون کیا تھا۔ ......../110