2 اکتوبر 2012 - 20:30

ترک افواج نے شام کے مسلح کردوں کے ساتھ پہلی جھڑپ میں ایک کرد باشندے کو شام کے اندر ہی قتل کردیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجینسی- ابنا - کی رپورٹ کے مطابق ایک مسلح کرد باشندہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شام کے اندر ہی سرحد کے قریب گشت میں مصروف تھا کہ اسی اثناء میں ترک فوجیوں نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔اس رپورٹ کے مطابق ترک فوجیوں کی فائرنگ سے تین افراد زخمی بھی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد صوبہ "الحسکہ" کے شہر "الدرباسہ" کے نواحی گاؤں "تل لیلون" میں گشت کررہے تھے اور یہ ترک افواج اور شام کے کرد باشندوں کے درمیان جھڑپوں کا پہلا واقعہ ہے اور اس واقعے کی خصوصیت یہ ہے کہ کرد شہری کو "بلااشتعال" اور "سرزمین شام کے اندر" قتل کیا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ترک حکومت جو پہلے سے ہی اپنے ملک کے اندر کرد باغیوں کی طرف سے شدید حملوں کا سامنا کررہی ہے اور شام اور عراق کے ساتھ بھی دشمنی کے راستے پر چل نکلی ہے، اب شامی کردوں کی طرف سے بھی شدید حملوں کا سامنا کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ پی کے کے کے کرد باغیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عراق کے ڈکٹیٹر صدام نے ترکی کو کئی فوجی اڈے دیئے تھے اور اب عراق کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان اڈوں کو مکمل طور پر بند کیا جائے یا ان کی مدت کی تجدید نہ کی جائے۔ عراقی کابینہ نے پارلیمان کو سفارش بھیجی ہے کہ عراقی سرزمین میں موجودہ اجنبی ملکوں کے اڈوں کی بندش کا اہتمام کرے یا ان ممالک کے ساتھ ان اڈوں کے قیام کے سلسلے میں منعقدہ معاہدات کو منسوخ کیا جائے یا ان کی تجدید سے اجتناب کرے۔ ایک اعلی عراقی اہلکار نے کہا: حکومت عراق کا مقصد وہ معاہدے ہیں جو 1995 کے ترک عراق معاہدے کے تحت صدام نے ترکی کے حوالے کئے تھے اور یہ اڈے شمالی عراق کے علاقوں صوبہ دہوک میں العمادیہ شہر سے 45 کلومیٹر دور "بامرنی"، اسی شہر سے 40 کلومیٹر دور "غیریلوک" نیز دہوک سے 115 کلومیٹر دور "کانیماسی" اور زاخو شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقعے "سیرسی" میں واقع ہیں۔ .....

/169-110

 تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

شام: بچے، دہشت گردوں کی انسانی ڈھال