اہل البیت (ع) نیوز ایجینسی- ابنا - کی رپورٹ کے مطابق جرمن اخبار ڈایولٹ نے اپنی رپورٹ میں سلامتی کے امور کے ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام مخالف نام نہاد "فری سیرین آرمی" میں شامی باشندوں کی نسبت صرف پانچ فیصہ ہے اور اس گروپ میں شامل باقی افراد کا تعلق دوسرے ممالک سے ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی کی انٹیلیجنس ایجنسی کے پاس فری سیرین آرمی میں افرادی قوت کی صحیح تعداد اور ان کی تعیناتی کے مقامات نیز ان افراد کی قومیت کے بارے میں میں بالکل درست معلومات موجود ہیں۔
دوسرے اہم جرمن اخبار ڈایولٹ (Die Welt) نے ایک اعلی جرمن سیکورٹی افسر کا نام ظاہر کئے بغیر اس کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام میں حکومت کے لڑنے والے عسکریت پسندوں میں زیادہ تر افراد لیبیا اور چند دوسرے افریقی ممالک سے ہے جو بعض عرب ممالک کی اعلانیہ مالی اور فوجی حمایت و امداد سے شام میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔
اس جرمن افسر نے ڈایولٹ کو شام میں لڑنے والے مسلح دہشت گرد عناصر کے بارے میں بتایا کہ جرمنی کے پاس ان لوگوں کے اعداد و شمار موجود ہیں گو کہ ان افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
اس افسر کے مطابق 2011 کے آخر میں ان عسکریت پسندوں کی تعداد 4800 تھی جو اس وقت 14800 افراد تک پہنچ چکی ہے۔ ان دہشت گرد عناصر میں کئی افراد بم بنانے اور دیگر ہتھیاروں کی تیاری میں مہارت رکھتے ہیں۔
جرمن سیکورٹی اہلکار نے مذکورہ روزنامے کو بتایا ہے کہ شام میں دہشت گردی میں مصروف بعض افراد عراق اور افغانستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں مصروف رہے ہیں لیکن زیادہ خطرناک مسئلہ یہ ہے کہ کئی عرب ممالک اپنی جیلوں میں بند جرائم پیشہ اور قاتل و سماج دشمن اور دہشت گرد افراد کو رہا کرکے "جہاد کے نام پر" شام بھجوا رہے ہیں جبکہ یہ اقدامات تمام بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہے۔
عجبا! جرائم پیشہ اور قاتل اور عدالتوں سے قتل، ڈکیتی اور دہشت گردی کے جرم میں سزایافتہ افراد سے جہاد کرایا جارہا ہے اور اس بار بھی اس جہاد کے پیچھے جہاد اور قرآن اور رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سب سے بڑا دشمن "امریکہ" کا ہاتھ صاف صاف دکھائی دے رہا اور ایک بار پھر جہاد کے اس دشمن کو آل سعود، اسرائیل، ترکی، قطر، کویت اور کئی دوسری بظاہر مسلم حکومتوں کی حمایت حاصل ہے اور یہ بظاہر مسلم حکمران اس بار سوویت یونین کی غیر مسلم حکومت کے خلاف امریکی جہاد کی حمایت نہيں کررہے ہیں بلکہ اس بار اسرائیل اور امریکہ کے خلاف تشکیل پانے والا مسلم ممالک اور اسرائیل کے خلاف لڑنے والے فلسطینی اور لبنانی مجاہدین سے تشکیل پانے والا مزاحمت محاذ ہے! فاعتبروا یا اولی الابصار۔
پس اے بصیرت اور بینائی کے مالکو! عبرت حاصل کرو۔
.....
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
حلب میں دہشت گردوں کا صفایا قطعی ہے / جرمن اخبار: بیشتر دہشت گرد اجنبی ہیں