27 ستمبر 2012 - 20:30

عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے اپنے بیان میں کہا ہے: مسلمانوں پر لازم لے ال امریکہ، فرانس اور اسرائیل کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور انہیں اسلامی ممالک کے بازاروں میں فروخت نہ کیا جائے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے مسلمان عوام، مسلم ممال کے حکمرانوں، ایوان ہائے صنعت و تجارت اور کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور فرانس کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخیوں کے پیش نظر اول الذکر دو ممالک نیز فلسطین کو غصب کرنے والی ناجائز صہیونی ریاست کی مصنوعات کی درآمد اور انہیں اسلامی ممالک میں فروخت کرنے سے اجتناب کریں۔اس بیان میں بھی سابقہ بیان کی طرح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں توہین پر مبنی امریکی فلم کی مذمت کو تمام مسلمانان عالم کا فریضہ گردانی گئي ہے۔ امریکہ اور فرانس میں امریکیوں، صہیونیوں اور فرانسیسیوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مسلسل توہین پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے دوسرا اہم بیان جاری کیا ہے جس میں اس طرح کے مغربی بیانات کے مقابلے میں مسلمانوں کے فرائض بیان کئے گئے ہیں۔

بیان کا مکمل متن:

بسم الله المنتقم

"ياأَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الَّذينَ اتَّخَذُوا دينَکُمْ هُزُواً وَ لَعِباً مِنَ الَّذينَ أُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ الْکُفَّارَ أَوْلِياءَ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنين"۔ (سوره مائده ـ آیه 57)ترجمہ: "اے ایمان والو! جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی مذاق بنا رکھا ہے ـ ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی ہیں ـ اور ـ ان میں سے جو کافر ہیں ـ اور اگر (واقعی) تم صاحب ایمان ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو"۔

عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی تمام مسلمانوں، انصاف پسند قوموں اور تمام عاشقان و محباب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کا شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے محبت و عشق رسول (صلی اللہ اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے سرشار ہوکر مظاہروں، ریلیوں، بیانات اور دوسرے مناسب اقدامات اور توہین کرنے والے ممالک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے ذریعے، امریکہ، فرانس، برطانیہ اور بین الاقوامی صہیونیت کی استکباری سازشوں اور پالیسوں اور غیر انسانی و امن دشمن اقدامات، اور اسلامی مقدسات کی توہین جیسے قبیح فعل کی مذمت کی اور اس جرم کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہم دیکھ رہے کہ بعض عرب اور اسلامی ممالک کی حکومتیں اپنے عوام کو اس سازش سے اظہار نفرت اور ان ممالک کے سفارتخانوں کے سامنے مظاہرہ کرنے سے روک رہے ہیں۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی اس اقدام کی مذمت کرتی ہے اور ان حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سازش کے مقابلے میں اپنی عظیم اور بھاری فرائض کے پیش نظر اس سازش کے سامنے ڈٹ جائیں اور ناموس اسلام و ناموس رسالت کا دفاع و تحفظ کریں اور جان لیں کہ اس راستے میں جان و مال تک کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ اسمبلی اس ناموس رسالت کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لئے رضوان و مغفرت الہی کی دعا کرتی ہے اور ایک بار پھر مجرم امریکہ اور قدس شریف کو غصب کرنے والی صہیونی ریاست کی سرکردگی میں ہونے والے دشمنان اسلام کے اس شرمناک فعل کی مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانان عالم اور امت غیور اور عاشقان رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے درخواست کرتی ہے کہ:اولاً) احتجاجی اقدامات کو جاری رکھیں اور مقدس اسلامی و انقلابی جذبہ غضب کے تحت اس غیرشائستہ اقدام کے عاملین اور حامیوں سے نفرت کا اظہار کریں اور اس طرح کی فلمیں اور خاکے بنانے والے افراد، ان کے پس پردہ عوامل اور ان میں ملوث عناصر پر مقدمہ چلانے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوانے پر تاکید کریں۔ ثانیاً) ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں، ذمہ دار افراد اور معاشروں کے عما‏ئدین، علماء اور دانشور، مفتی حضرات، سیاستدان، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد اور اخبار نویس، سیاسی جماعتیں اور گروپ، ٹریڈ یونینں اور تاجروں کی انجمنین نیز معاشرے کے تمام طبقے اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے اپنے اقدامات میں اضافہ کریں اور مسلمانوں کی اس عالمی تحریک کو نہ رکنے دیں۔ امت اسلام کو مؤثر مقابلے کا اہتمام کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں دشمنان اسلام دوبارہ اس طرح کی حرکتوں کی جرأت نہ کرسکیں؛ کیونکہ دشمنان اسلام اپنے اسلام دشمن اور انسان دشمن اقدامات سے اجتناب نہيں کررہے ہیں اور اجتناب نہيں کریں گے اور جس طرح کہ ہم نے دیکھا فرانس کی مجرم اور مسلم کُش حکومت بھی سازشی قوتوں سے جاملی ہے اور افسوس کہ بعض دیگر مغربی ذرائع نیز بعض کرائے کے عرب ذرائع ـ منجملہ الجزیرہ چینل ـ نے اس شرمناک سازش کو ترویج دینے کا سلسلہ شروع  کررکھا ہے اور وہ بھی اس جرم میں شامل ہوگئے ہیں۔ثالثاً) مناسب ہے کہ امت مسلمہ موجودہ حالات میں ایسے عملی اور مؤثر اقدامات سرانجام دے جو اسلام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شان میں گستاخی کا مذموم سلسلہ روک دے؛ جیسے:1۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ امریکہ، فرانس اور اسرائیل نامی جعلی ریاست کی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ان مصنوعات کو اسلامی مارکیٹ میں درآمد نہ ہونے دیں نیز کمپنیوں کے مالکین اور ایوان ہائے صنعت و تجارت اول الذکر دو ملکوں اور ناجائز صہیونی ریاست سے درآمدات پر پابندی لگا دیں۔ 2۔ الجزیرہ ٹی وی چینل اور عالمی سامراج سے وابستہ دوسرے نیوز چینلز ـ جو مغرب اور صہیونیت کی پسندیدہ فلمیں اور تصاویر دکھانے میں پیش پیش رہے ـ کو مسلمانوں کی طرف سے بائیکاٹ کا سامنا کرنا چاہئے اور اسلامی ممالک میں ان چینلز کے دفاتر بند کئے جائیں اور ان کے نامہ نگار ملک بدر کئے جائیں۔3۔ اسلامی تعاون کونسل پر واجب ہے کہ بہت جلد اس توہین آمیز حرکت اور مسلمانوں کی توہین پر مبنی اقدامات کے دہرائے جانے پر اپنی خاموشی کے پیش نظر مسلمانان عالم سے معافی مانگے اور اس مغربی و صہیونی توہین کا سد باب کرنے کے لئے سنجیدہ طریقہ کار اپنائے اور اسلامی ممالک کی مضبوط سیاسی اور معاشی صلاحیتوں سے استفادہ کرکے دشمنوں کو مایوس کرنے کے لئے مناسب اقدامات عمل میں لائے۔ 4۔ دنیا بھر میں اس عظیم صدمے سے دوچار ہونے والے غم زدہ مسلمانوں سے بھی اپیل ہے کہ ان شرمناک سازشوں میں ملوث حکومتوں کے سفارتخانوں کے سامنے دھرنے دیں اور ان کا گھیراؤ کریں اور مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعے ان ذلیلانہ حرکتوں کی مذمت کرکے ان سفارتخانوں کو اپنے ملکوں میں کام نہ کرنے دیں۔ 5۔ تمام مسلمانوں، اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کا فرض ہے کہ اپنے ملکوں کی حکومتوں سے درخواست کریں کہ وہ اس توہین آمیز فلم پر اپنی سرحدوں کے اندر پابندی لگائیں کیونکہ اس قسم کے توہین آمیز اقدامات سے اسلام دشمنوں کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس طرح کے توہین آمیز اقدامات روز کا معمول بن جائیں اور اسلام تشخص کو مسخ کیا جاسکے۔ 6۔ دنیا کی مسلم قوموں کو اسلامی ممالک کے ان حکام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرلینی چاہئے جو یا تو اس عظیم جرم کے سامنے خاموش تماشائی رہے یا اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی قوموں کو احتجاج کرنے میں بھی رکاوٹ بنے۔ 7۔ سارے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنی حکومتوں سے درخواست کریں کہ وہ سازشی ممالک کے اس اقدام کی مذمت کریں، جاسوسی کے امریکی، فرانسیسی اور صہیونی گھونسلوں (نام نہاد سفارتخانوں) کو فوری طور پر بند اور ان کے سفیروں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے پر مجبور کریں۔ بے شک مسلمانوں کی رائے عامہ ان توہین آمیز مغربی اقدامات پر اسلامی ممالک کے بعض حکمرانوں کے سطحی احتجاج سے ہرگز مطمئن نہيں ہوسکی ہے اور نہیں ہوسکے گی۔  8۔ علمائے اسلام، اسلامی ممالک کے مفتیوں، مفکرین اور ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح اور صریح بیانات کے ذریعے اس شیطانی فعل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کے خلاف موقف اپنائیں۔9۔ اسلامی معاشروں کے تمام طبقات واضح و آشکار بیانات جاری کرکے دشمنوں کی سازشوں کے جواب میں اپنی وحدت اور یگانگت کا ثبوت فراہم کریں۔

عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی 26 سپتامبر 2012

.............

/110