25 ستمبر 2012 - 20:30

ان جملوں کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی مسلح افواج فلسطین کی طرف روانہ ہونے کے لئے تیار ہیں اور ان کی منزل مقصود پورا فلسطین ہے دریا سے سمندر تک (دریائے اردن سے لے کر بحیرہ روم تک)؛ اور اگر ایران اس نتیجے پر پہنچے کہ کسی بھی نقطے اور کسی بھی ملک کی طرف اس کے خلاف جارحیت کی صورت میں وہ حفظ ما تقدم کے طور پر امتناعی حملہ شروع کرے گا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لندن سے شائع ہونے والے روزنامے القدس العربی کے لکھاری اور تزویری مسائل کے تجزیہ نگار "محمد صادق الحسینی" نے "فلسطین مین کون پہلے کون پہنچے گا" کے زير عنوان اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ "اب ہمیں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کی یہ بات بہتر طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ "ہم آج محاصرے میں نہيں ہیں اور ہماری حالت شعب ابی طالب (ع) کی حالت نہیں ہے بلکہ بدر و خیبر کی فتوحات کی حالت میں ہیں"۔

ہم نے دھمکی کے جواب میں دھمکی"، یا "خطرے کے جواب میں خطرہ"، یا "ہرقسم کی جارحیت کا جواب، فوجی کاروائی کی اسی سطح پر" جیسی اصطلاحات سن رکھی تھیں لیکن آج معلوم ہوا کہ ان اصطلاحات کے معنی کیا ہیں۔ ان جملوں کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی مسلح افواج فلسطین کی طرف روانہ ہونے کے لئے تیار ہیں اور ان کا منزل مقصود پورا فلسطین ہے دریا سے سمندر تک (دریائے اردن سے لے کر بحیرہ روم تک)؛ اور اگر ایران اس نتیجے پر پہنچے کہ کسی بھی نقطے اور کسی بھی ملک کی طرف اس کے خلاف جارحیت کی صورت میں وہ حفظ ما تقدم کے طور پر امتناعی حملہ شروع کرے گا۔ ایران کی جانب سے دشمن یعنی امریکہ اور صہیونی ریاست پر امتناعی حملے (Preventive Attack) کے امکان کی باتیں سامنے آنے کے بعد یہ ملک (ایران) ـ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ـ جنگی ضوابط میں اہم تبدیلی کے نقطے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اب آسانی سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مسابقت اس وقت اس موضوع پر مرکوز ہے کہ "پہلا قدم کون اٹھائے گا؟"؛ اور ایران میں استقامت، محنت اور انتھک مزاحمت کی تاریخ کو مد نظر رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ تہران اوباما ـ یا امریکہ کی ڈوبتی کشتی کی پتوار سنبھالنے والے کسی بھی شخص ـ کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ وہ امریکی بری یا بحری فوج ـ قدس کور کا سامنا کئے بغیر ـ اسرائیل کو بچانے کے لئے فلسطین کے ساحلوں تک پہنچا دے۔ کیونکہ ایرانی افواج نے اس سے بہت پہلے، اپنی "مستضعفین فورس" مقدس سرزمین کی جانب روانہ ہوجائے گی اور اس علاقے کو فلسطینی اور لبنانی مجاہدین کی مدد سے آزاد کردے گی؛ جبکہ امریکی جنرل اور امریکی افواج کے باقیماندہ دوسرے افسران، بے آبرو ہوچکے ہونگے اور ان کی پوزیشن اسرائیلی "خانۂ عنکبوت" (مکڑی کے جال) سے بھی کہیں زيادہ کمزور ہوچکی ہوگی۔ہاں! یہ ایک مسابقت ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ‌فرزندوں میں سے ایک سید کی ایک شخص کے ساتھ جو کاؤ بوائیز اور اینگلو سیکسنز کی نسل سے ہے؛ بالفاظ دیگر "سیدخامنہ ای" کے فدائیوں اور "مسٹر اوباما" کے میرینز کے درمیان، دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کون پہلے پہنچتا ہے سرزمین فلسطین میں؟۔یہ افغانستان میں جاری واقعات کا حقیقی تسلسل ہے۔ امریکی افغانستان میں اپنی فورسز کی تعداد بڑھانے کے لئے کوشاں تھے اور سمجھ رہے تھے کہ اس ملک کی اسٹراٹیجک فیصلہ سازیوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا ...یہ امریکیوں کے توہم کی وہی داستان ہے جو بعد میں عراق میں ان کی ناامیدی میں تبدیل ہوگئی، عراق میں کسی بھی علاقے تک پہنچنے سے قبل وہ ایرانیوں کی بھاری موجودگی کا سامنا کرتے اور یہ صورت حال ان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی تھی اور ایرانیوں کا یہ سرگرم کردار جنرل پیٹراس (general petraeus) کو خوفزدہ کیا کرتا تھا؛ حتی کہ اس کو بالآخر اعتراف کرنا پڑا کہ "عراق کو عراقیوں کے حوالے کرنا چاہئے اور امریکہ کو یہاں سے چلے جانا چاہئے"۔ القدس العربی کے تجزیہ نگار نے مزید لکھا ہے: اس وقت اوباما یا پھر (ریپبلکنز کے صدارتی امیدوار) مٹ رومنی (Mitt Romney) کے سامنے ایک راستہ ہے اور وہ یہ کہ "فلسطین کی طرف جانے کا احمقانہ فیصلہ کریں اور وہاں "سید" خامنہ ای کے حامیوں کو دیکھ لیں، جو ان پر سبقت لے چکے ہیں؛ یا زہر کا پیالہ چڑھادیں اور ایسے "ہاتھ" کا بوسہ لینے کے لئے تیار ہوجائیں جس کو توڑنا تو درکنار، خم کرنے سے بھی، وہ عاجز ہوچکے ہیں اور پھر ایسی مصالحت کو قبول کریں جس کا اہتمام چین، روس اور یورپ سے عالمی گواہ اور دوسری عالمی جنگ میں فتحیاب فریقوں کے پسماندگان، کریں گے اور آخرکار "اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل" کہلانے والے ادارے کو دیوار سے لگا دیں اور "نئے مذاکرات کاروں" کے سامنے "مذاکرات کی نئی میز" پر بیٹھنا قبول کریں؛ اور ایسے مذاکرات کاروں کے سامنے بیٹھیں جو نئے اور بالکل مختلف معیاروں کے مطابق، نئے عالمی سیاسی جغرافئے کی بنیاد رکھیں گے؛ ایسا حق پرست عالمی سیاسی جغرافیہ جو اپنے سینے پر مقدس سرزمین کے لئے "فلسطین" کے سوا کوئی جعلی نام (جیسے اسرائیل، یا یہودی ریاست یا صہیونی ریاست) کو تسلیم نہيں کرے گا۔  اور ہاں! یہ ایک نعرہ، شعر و نظم، یا مظفر نواب یا محمود درویش جیسے شاعروں کی شاعرانہ آرز نہيں بلکہ سپاہ پاسداران انقلاب ایران کے پُر عزم اور ثابت قدمجرنیلوں، لبنان کے مردان خدا (رجال اللہ) اور فلسطین کی طاقتور ملت کے روڈ میپ کا حصہ ہے۔

.............

/110