14 ستمبر 2012 - 19:30

عجب یہ کہ امریکی حکومت اور امریکیوں کٹھ پتلی سلامی کونسل نے نہ صرف اس عمل کی مذمت نہيں کی بلکہ ان میں سے بعض نے امریکی سفارتخانوں کے سامنے احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو "وحشی" قرار دیا جبکہ وحشی کا لقب اس ان لوگوں کے لئے زیادہ مناسب ہے جو بلاوجہ و دلیل مسلمانوں کے مقدس ترین اعتقادات کی توہین کرتے ہیں اور دنیا کو موجودہ صورت حال سے بھی زیادہ بدامنی سے دوچار کردیتے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں امریکیوں کی توہین کی مذمت کی۔آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کے پیغام کا متن:

بسم الله الرحمن الرحيم

ایک بار پھر صہیونیوں اور اس سے قبل قرآن مجید کو نذر آتش کرکے اپنی بدنیتی کا ثبوت دینے والے بعض انتہاپسند امریکی پادریوں کے آلودہ اور پلید ہاتھ، خیانت کے آستین سے باہر آئے جس کا حاصل وہ فلم تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بےمثال توہین و گستاخی پر مشتمل تھی۔ اس بھونڈے اور شرمناک عمل سے ظاہر ہوا کہ وہ عالم اسلام کی بیداری اور دنیا میں دین الہی کے فروغ سے خوف و وحشت کا شکار ہوچکے ہیں اور ہر قسم کے احمقانہ قعل کا ارتکاب کرتے جس کا نتیجہ قطعی طور پر معکوس ہوگا اور وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکیں گے۔ خوش قسمتی سے کئی عرب اور اسلامی ممالک میں بیدار مسلمانوں نے شدید ترین رد عمل ظاہر کر ثابت کیا کہ ان شرمناک اعمال کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ممالک کے مسلمان اور ہمارے ملک (اسلامی جمہوریہ ایران) کے بیدار مسلمان بھی احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہم صدا ہوجائیں اور اس صہیونی ـ امریکی سازش کا منہ توڑ جواب دیں۔عجب یہ کہ امریکی حکومت اور امریکیوں کٹھ پتلی سلامی کونسل نے نہ صرف اس عمل کی مذمت نہيں کی بلکہ ان میں سے بعض نے امریکی سفارتخانوں کے سامنے احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو "وحشی" قرار دیا جبکہ وحشی کا لقب اس ان لوگوں کے لئے زیادہ مناسب ہے جو بلاوجہ و دلیل مسلمانوں کے مقدس ترین اعتقادات کی توہین کرتے ہیں اور دنیا کو موجودہ صورت حال سے بھی زیادہ بدامنی سے دوچار کردیتے ہیں۔ہم اس اہانت کی شدید مذمت کرتے ہیں جس کی مثال ماضی میں کہيں نہيں ملتی اور مسلمانان عالم سے اپیل کرتے ہيں کہ اس اقدام کا مناسب اور منطقی جواب دے کر ان کو اور ان کے محرکین کو درس عبرت سکھائیں تا کہ وہ ہمیشہ کے لئے اس طرح کے بھونڈے اور نفرت انگیز اعمال کو بھول جائیں۔ "يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللهُ إِلاَّ أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ"۔ (سوره توبہ آیت 32)وہ اپنے منہ سے خدا کا نور بجھانا چاہتے ہیں لیکن خداوند متعال اپنا نور مکمل کرنے کے سوا کچھ نہیں چاہتا خواہ کفار اکمال و اتمام نور کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں!۔ ................./110