ابنا: موسم سرما کي آمد اور مناسب خوراک کي قلت و فقدان کي وجہ سے پناہ گزيں کيمپوں ميں مقيم ميانمار کے مسلمانوں کي مشکلات ميں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے- مقامي ذرائع کا کہنا ہے کہ ميانمار کي سيکورٹي فورس کي حمايت سے انتہا پسند بودھسٹوں کے ہاتھوں ميانمار کے روہنگيا مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے گھروں کو نذر آتش کردئے جانے کے پيش نظر اس وقت دسيوں ہزار روہنگيا مسلمان وقتي طور پر بنائے گئے کيمپوں ميں انتہائي افسوسناک حالات ميں زندگي کے دن کاٹ رہے ہيںاس درميان ميانمار کے صدر کا يہ اصرار کہ روہنگيا مسلمانوں کو اب انہي کيمپوں ميں ہي رہنا ہوگا اس نے برما کے مسلمانوں کي حالت زارکے بارے ميں تشويش اور بڑھا دي ہے-ميانمار کے مسلمانوں کي افسوسناک صورتحال کے بارے ميں بڑھتي ہوئي تشويش کے درميان اقوام متحدہ ميں او آئي سي کے دفتر کے نمائندے گوکچن کي سربراہي ميں اسلامي ملکوں کا ايک وفد ميانمار کے صوبہ راخين روانہ ہوا ہےميانمار کي حکومت نے پچھلے دنوں او آئي سي کو اس بات کي اجازت دے دي تھي کہ وہ مغربي ميانمار کے لوگوں کے لئے انسان دوستانہ امداد فراہم کرسکتي ہے - ميانمار کي حکومت نے يہ اجازت اس شرط کے ساتھ دي تھي کہ يہ انسان دوستانہ امداد صرف مسلمانوں کے لئے نہيں بلکہ علاقے کے سبھي لوگوں کے لئے ہوني چاہئے –ميانمار کي حکومت کا کہنا ہے کہ روہنگيا مسلمان اس ملک ميں غير قانوني تارکين وطن ہيں جو بنگلہ ديش سے آکر مغربي ميانمار کے دور افتادہ علاقوں ميں آباد ہوئے ہيں يہ ايسي حالت ميں ہے کہ ثبوت و شواہد يہ بتاتے ہيں کہ اسلام پہلي ہجري قمري ميں ہي ميانمار ميں پہنچ چکا تھا اس وقت عرب اور ايراني تاجر جو تازہ مسلمان ہوئے تھے ميانمار کے ارکان علاقے ميں پہنچے تھے - چنانچہ بعد کے برسوں ميں ارکان ميں رہنے والے سبھي لوگ دين اسلام سے مشرف ہوگئے تھے اور اس علاقے کا رسم الخط بھي بارہ سو سال قبل عربي رسم الخط تھا اس کے بعد اس علاقے ميں روہنگيا زبان وجود ميں آئي اور پھر اس علاقے کے لوگوں کو روہنگيا مسلمان کے نام سے شہرت حاصل ہوگئي- ان تمام تر حقائق کے باوجود ميانمار کي فوجي حکومت نے انيس سو بياسي ميں اس ملک کے مسلمانوں کو ميانمار کي شہريت سے محروم کرديا اور انہيں غير قانوني تارکين وطن کا درجہ دے ديا اس وقت سے آج تک ميانمار کے مسلمانوں کو نہ تو شناختي کارڈ ديا جاتا ہے اور نہ انہيں پاسپورٹ ديا جاتا ہے اس سے بھي بڑھ کر يہ کہ ميانمار کے مسلمان اپنے ہي ملک ميں ايک شہر سے دوسرے شہر ميں سفر بھي نہيں کرسکتے اور نہ ہي وہ زمين و جائيداد خريد سکتے ہيں- ميانمار کے مسلمانوں کو کسي بھي طرح کي سياسي يا سماجي تنظيم بنانے کا بھي حق نہيں ہے اور نہ وہ مساجد ميں نماز ادا کرسکتے ہيں طرفہ ستم يہ بھي کہ وہ اپنے حق کے لئے عدالت سے بھي رجوع نہيں کرسکتے- اس درميان دنيا کے آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ميانمار اور امريکا کے درميان جب سے وسيع تعلقات قائم ہوئے ہيں يعني گذشتہ جون سے اب تک لاکھوں کي تعداد ميں ميانمار کے مسلمان بے گھر ہوچکے ہيں جبکہ ان کے دسيوں گاؤں کو نذر آتش کرديا گيا ہے –اطلاعات کے مطابق ان علاقوں کے ہزاروں افراد کو ان کے گھروں ميں زندہ جلاديا گيا ہے جن ميں بچے اور خواتين بھي شامل ہيں- اسي لئے بہت سے مبصرين کا کہنا ہے کہ ميانمار کے مسلمانوں کے وحشيانہ قتل عام کے واقعات پر مغربي ذرائع ابلاغ کي خاموشي مغربي مفادات کے تحت ہے جن کے تحت وہ ميانمار کے ذخائر پر اپني نظريں جمائے ہوئے ہيں –ان مبصرين کا کہنا ہے کہ ايسے ميں انساني حقوق کي مدافع تنظيموں کو چاہئے کہ وہ مغرب سے وابستہ حلقوں کا اثر قبول کئے بغير اس طرح کي سازشوں کے مقابلے ميں اپني خاموشي توڑيں اور ميانمارميں مسلمانوں کے خلاف ہونےوالے اس طرح کے مظالم کي تکرار کو روکيں....../169
12 ستمبر 2012 - 19:30
News ID: 347164
ميانمار کي حکومت اس ملک کے مسلمانوں کو کيمپوں ميں ہي رکھنے پر بضد ہے جبکہ مسلمان ان کيمپوں ميں انتہائي سخت حالات ميں زدگي گزار رہے ہيں -