10 ستمبر 2012 - 19:30

گیارہ سال قبل جب سنہ 2001 میں جب امریکہ میں چار مسافر بردار طّیارے اغوا کئے گئے تو کم ہی ایسے لوگ موجود تھے جو یہ تصّور کر رہے تھے کہ دنیا اتنی زیادہ تبدیل ہوجائے گی ۔

ابنا: گیارہ ستمبر کے واقعے میں بظاہر امریکہ میں چار مسافر بردار طّیارے اغوا کئے گئے اور نیویارک کی جڑواں عمارتیں تباہ کردی گئیں نیز امریکی وزارت دفاع میں دھماکہ کیا گيا۔ اس دن تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور امریکی تاریخ میں دہشتگردی کا سب سے بڑا واقعہ رونما ہوا مگر بعد کے واقعات یقینا اس سے بھی کہیں زیادہ ہولناک ثابت ہوئے۔ گذشتہ ایک عشرے کے دوران عالمی نظام کے ڈھانچے میں بیشتر تبدیلیاں، گیارہ ستمبر کے واقعے کے زیر اثر ہی رونما ہوئیں ۔ امریکہ کی اس وقت کی حکومت نے گیارہ ستمبر کے واقعے کی خونخواہی میں دنیا کے دو آزاد ملکوں یعنی افغانستان اور عراق پر قبضہ کیا اور بعض مبصرین بھی اس جنگ کا جواز پیش کرنے لگے ۔ پہلے حملہ کرنے کی حکمت عملی کو فروغ دینے کی کوشش کی جانے لگی جسے دفاعی اقدام سے تعبیر کیا جانے لگا اور اس طرح، عالمی نظام کا استحکام ختم کرکے رکھہ دیا گیا۔ نیویارک کی جڑواں عمارتوں کے ڈھیر ہوجانے سے آزادی اور انسانی حقوق کی پابندی کی بنیادیں کہ جنکا مغربی دنیا کے لبرل ڈیموکریسی کے نظام کے دائرے میں خوب چرچا کیا جاتا تھا، ہل اٹھیں ۔ پہلے گوانٹانامو جیل میں ایسے قیدیوں کو بھردیا گیا جو ہر طرح کے قانونی حق سے محروم تھے اور دہشتگردانہ واقعات کے مشتبہ افراد سے اعترافات لینے کیلئے طرح طرح کے شکنجوں اور ایزاؤں کا دور شروع ہوگیا جس کے نتیجے میں ابوغریب جیل کی رسوائی کا منظر سامنے آیا کہ جس نے انسانی حقوق کے دعویدار کی حیثیت سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ناپاک ماہیت کو برملا کردیا۔ خود امریکہ میں بھی گیارہ ستمبر کے واقعے سے ایسی کنٹرول حکومتوجود میں آئی جو کتب خانوں سے امانت کے طور پر کتابیں لئے جانے کے عمل کو بھی قومی سلامتی کیلئے خطرے سے تعبیر کرنے لگی اور قانونی جواز کے بغیر ہی کروڑوں امریکیوں کے ٹیلیفونی مکالمات سننے اور ایمیل کنٹرول کئے جانے کو اپنا حق سمجھنے لگی ۔ دنیا کے گوشہ و کنار میں اسلام فوبیا اور اسلام ہراسی کا عمل بھی، صرف اس بہانے سے کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے ذمہ دار عناصر کا تعلق مسلمانوں اور مشرق وسطی کے شہریوں سے ہے  اس واقعے کے شرمناک نتائج میں سے ہے کہ جس کے نتیجے میں مغربی ملکوں میں مسلمانوں پر حملے ہونے لگے اور ان کے مقدس مقامات و اقدار کی توہین و بے حرمتی کی جانے لگی اور یہ عمل، اس قدر آگے بڑھا کہ گذشتہ سال ایک امریکی پادری نے گیارہ ستمبر کے واقعے کی برسی کے موقع پر دنیا کے ڈیڑھہ ارب سے زائد مسلمانوں کی مقدّس کتاب، قرآن مجید کو نذر آتش کئے جانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ امریکہ میں مسلمانوں پر دباؤ اس حد تک بڑھا کہ نیویارک کے منہٹن علاقے میں ایک اسلامی مرکز کی تعمیر تک روک دی گئی اور یہ سب واقعات، ایسی حالت میں پیش آئے کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد پوری دنیا میں دہشتگردی کا خطرہ شّدت اختیار کرگیا تھا ۔ امریکیوں نے دہشتگردی کے خلاف مہم کی اپنی خود ساختہ اصطلاح کے تحت، پہلے افغانستان اور پھر عراق پر حملہ کیا۔ پاکستان،یمن اور صومالیہ میں ڈرون طیاروں کے ذریعے لوگوں کا بے تحاشا خون بہایا، انسانی حقوق کا گلا گھونٹا اور صیہونیوں کو لبنان کے خلاف 33 روزہ جنگ کی ہری جھنڈی دکھادی ۔ اب جبکہ گیارہ ستمبر کے واقعے کو گیارہ سال کا عرصہ پورا ہورہا ہے دنیا کی صورت حال ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بدامن اور خطر ناک شکل اختیار کرگئی ہے اور دہشتگردی کی لعنت کا طوق بھی پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں کی جان کیلئے خطرہ بن گیا ہے ۔............../169