10 ستمبر 2012 - 19:30

امريکا نے صہیوني ریاست کي اس درخواست کو مسترد کرديا ہے جس ميں اس نے کہا ہے کہ ايران کو ريڈ لائن عبور نہيں کردينا چاہئے.

ابنا: امريکي دفتر خارجہ کي ترجمان وکٹوريہ نولينڈ نے کہا ہے کہ الٹي ميٹم يا ريڈ لائن جيسے نظريات اب کارآمد نہيں رہے ہيں –واضح رہے کہ ايران کے پرامن ايٹمي پروگرام کو لے کر امريکا اور اسرائيل کے درميان کشيد گي اس وقت بڑھ گئي جب وائٹ ہاؤس کے ترجمان جي کارني نے کہا کہ ابھي ايران کے ايٹمي معاملے کو حل کرنے کے لئے وقت اور ماحول باقي ہے -وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہيں کہ ہماري کوششوں کے بار آور ہونے کے لئے ابھي بھي وقت اور ماحول پايا جاتا ہے –امريکي وزير خارجہ ہيلري کلنٹن نے بھي پير کو کہا تھا کہ واشنگٹن ايران کے ايٹمي معاملے کو سفارتي طريقے سے  حل کرنے کے لئے کوئي مہلت مقرر نہيں کرے گا –امريکا ، صہيوني ریاست اور اس کے بعض اتحادي ممالک ايران پر الزام لگاتے ہيں کہ وہ ايٹمي ہتھيار بنانے کي کوشش کررہا ہے-اس الزام کے تحت اسرائيل نے بارہا ايران پر حملے کي دھمکي تک دے ڈالي ہے مگر ايران نے اس طرح کے الزامات کو بے بنياد قرارديتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اين پي ٹي کا ممبر ہے اس لئے پرامن مقاصد کے حصول کے لئے ايٹمي ٹکنالوجي کا حصول اس کا حق ہے اور وہ اپنے اس حق سے کبھي بھي دست بردار نہيں ہوگا –علاوہ ازين ايران کي ايٹمي تنصيبات کا آئي اے اي اے کے معائنہ کاروں نے بارہا معائنہ کيا ہے اور اس کي سرگرمياں ان کي نگراني ميں ہي انجام پارہي ہيں  -آئي اے اي اے نے اپني رپورٹوں ميں بارہا کہا ہے کہ ايران کي ايٹمي سرگرميوں ميں کسي بھي طرح کا انحراف نہيں پايا گيا ہے –...../169