10 ستمبر 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ اگر شام میں دہشت گردانہ سرگرمیاں بند ہوجائيں، بیرونی ممالک مداخلت نہ کریں اور مخالف گروہوں کو مسلح نہ کیا جائے تو اس ملک کا بحران حل ہو جائے گا۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے آج ملکی اور غیرملکی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر شام میں فوجی مداخلت کی حالیہ دھمکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مشرق وسطی کے کسی بھی ملک میں غیرملکی مداخلت کی گئي تو پورے مشرق وسطی میں سنگین بحران پیدا ہو جائے گا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان مہمان پرست نے قاہرہ میں ایران، سعودی عرب ترکی اور مصر کے چار فریقی اجلاس کے نتیجے کے بارے میں کہا کہ مصر کے صدر محمد مرسی کی تجویز، شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں سامنے آنے والی تجاویز میں سے ہے اور دوسرے ممالک نے بھی تجاویز پیش کی ہے۔
مہمان پرست نے مزید کہا کہ تہران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ جو بھی تجویز شام کے بحران کے حل میں مددگار ہو گی، ایران اس کی حمایت کرے گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کینیڈا کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات ختم کئے جانے کے یکطرفہ اقدام کے بارے میں کہا کہ کینیڈا حکومت اس ملک میں ایرانی سفارت کاروں اور شہریوں کی جان اور سفارتی عمارتوں اور مقامات کی حفاظت کی براہ راست ذمہ دار ہے ۔
مہمان پرست نے کہا کہ حکومت کینیڈا نے یکطرفہ طور پر تعلقات ختم کرنے کی کوئي منطقی وجہ پیش نہيں کی اور اس قدم سے اس نے اپنے قومی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے خلیج فارس میں پچیس ملکوں کےساتھ مل کر فوجی مشقیں کرنے کے بارے میں کہا کہ کہیں ہونے والی مشقیں، ایران کےحدود سے جتنا زيادہ نزدیک ہوں گی ان پر اتنا زیادہ گہری نظر رکھی جائےگي۔
مہمان پرست نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران کی دفاعی فوج بھی مختلف مشقیں کر کے خلیج فارس کے علاقے کی سیکورٹی اور ثبات کے تحفظ کی کوشش کر رہی ہے، کہا کہ سب کو یہ جان لینا چاہئے کہ علاقے کی سیکورٹی اور استحکام نہایت حساس امر ہے اور ایران بہت حساسیت سے اس کا جائزہ لے رہا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ نئے سمجھوتے کے لئے ایران کی دو شرطوں کے بارے میں آئی اےای اے میں ایران کے مستقل نمائندے علی اصغر سلطانیہ کے بیانات کے بارے میں کہا کہ ایران اور آئي اے ای اے کے مذاکرات قانونی تکنیکی دائرے میں ہونے چاہییں اور این پی ٹی کے تناظر میں ایران کو کچھ حقوق حاصل ہيں جن کا آئي اے ای اے  کے ساتھ تعاون کے تناظر میں احترام ہونا چاہئے۔
.....
/169