10 ستمبر 2012 - 15:08

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراه اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات اور روشن اصولوں کو اپنا کر ہی باقی ماندہ پاکستان کی حفاظت کی جا سکتی ہے قائد اعظم کے فرمودات اور نظریات سے روگردانی کی وجہ سے آدھا پاکستان تو ہم گنوا بیٹھے ہیں لیکن اب یہ ملک مزید اس قسم کے نقصانات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بلاشبہ قائد اعظم بیسویں صدی کے عوام دوست، اصول پسند، بے لوث، سچے اور عظیم مسلمان رہنماء تھے لہذا ہم ان کے وضع کردہ اصولوں پر عمل کر کے ہی پاکستان کی صحیح معنوں میں خدمت کرسکتے ہیں۔

ابنا: بانی پاکستان کے یوم وفات کے موقع پر اپنے پیغام میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ قائد اعظم نے جن اصولوں اور مقاصد کے لیے آزاد مملکت کی جدوجہد کی تھی اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور انہوں نے پاکستان کی شکل میں ایک عظیم کامیابی حاصل کی۔ آج 66  سال بعد ہمیں اس کا جائزہ لینا ہوگا کہ کیا ہم قائد اعظم کے روشن اصولوں پر عمل پیرا ہیں؟ اور جن مقاصد کے لیے عزت و ناموس اور جانوں کے نذرانے دئیے گئے وہ حاصل ہو گئے ہیں؟ قائد اعظم نے جس ملک کی بنیاد ڈالی تھی اس میں جمہوریت کو اساسی حیثیت حاصل تھی ۔عدل و انصاف ، امن و امان سے بھرپور معاشرے کا قیام تھا ۔عوام کو ان کے بنیادی اور شہری حقوق کی پاسداری کا یقین دلایا گیا تھا اور اقتدار میں عوام کو بنیادی حیثیت دی گئی تھی۔ علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ آج ہم معروضی حالات کا جائزہ لیں تو اس ملک میں امن و امان اور عدل و انصاف نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ جمہوریت کا گلا گھونٹنا ایک معمول بن چکا ہے ۔جمہوریت کی معروف اقدار سے گریز کیا جا رہا ہے۔ بنیادی و شہری آزادیوں کو سلب کرنے کے لیے ہر دور میں نت نئے قوانین بڑی دیدہ دلیری سے بنائے جا رہے ہیں۔ ایک متفقہ آئین  1973 ء میں بنا لیکن اب اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ عوام غربت ، بے روزگاری، بدامنی، تعصب، اور ناانصافی کی چکی میں پس رہے ہیں اور کسی کو اس کا احساس تک نہیں۔ فرقہ وارانہ تعصبات اور فرقہ وارانہ دہشت گردی' شدت پسندی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کوئی ٹھوس اور موثر کام نہیں ہوا۔ روایتی اور معمولی نوعیت کے اقدامات کئے جاتے رہے جن میں اچھے برے کی تمیز مفقود رہتی ہے لیکن نہ تو فرقہ پرستوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیاگیا نہ ہی قاتل دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی اور بے چینی پھیل رہی ہے جو کسی صورت بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔
.....
/169