3 ستمبر 2012 - 19:30

ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی اور چیف جسٹس آف پاکستان کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات: پاکستان کے پانچ کروڑ عوام کو پاکستان میں کی آزاد عدلیہ اور اس کے سربراہ سے یہ توقع تھی کہ پاکستان میں مکتب تشیع کی جاری نسل کشی کے خلاف سوموٹو ایکشن لیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ (بحوالہ ہزارہ ٹرائب ڈاٹ کام) کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کے راہنما محمد امین شہیدی نے ان سے کہا:

آپ نے ہر چھوٹے سے چھوٹے مسئلے میں سوموٹو ایکشن لے کر عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ آزاد ہے لیکن کوئٹہ میں ساڑھے پانچ سو بے گناہ محب وطن، افسران، بیوروکریٹس، تاجر، علماء، اساتذہ، طلبا، ججز، وکلا اور دیگر طبقات کا خون ناحق بہایا گیا۔ محب وطن اہل تشیع افراد کو اغوا کے بعدذبح کردیا گیا اور اس قبیح عمل کی وڈیو باقاعدہ انٹرنیٹ پرجاری کی گئی۔ ڈیر اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں چارسوپچاس سے زائد بے گناہ افراد خون میں نہلائے گئے جبکہ متعدد نوجوانوں کو فورسز نے گولی ماردی اور ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینک دی گئیں۔پاراچنار میں ایک ہزار پچاس سے زائد افراد کو شہید کیا گیا متعدد معذور اور اپاہج کئے گئے۔(یاد رہے کہ پاراچنار میں شہداء کی تعداد 1600 سے زائد ہے)۔گلگت بلتستان میں سینکڑوں لوگ مذہب کے نام پر دہشت کی بھینٹ چڑھ گئے لشکروں کے حملے ہوتے رہے درجنوں دیہات جلائے گئے۔کوئٹہ میں روزانہ کئی بے گناہ افراد شہید کردیے جاتے ہیں سیکورٹی ادارے تماشائی رہے تو آپ کی عدالتوں نے بھی دہشت گردوں کو آزاد کیا۔اس ملک کے پانچ کروڑ اہل تشیع آپ کی عدلیہ سے مکمل طور پر مایوس ہوچکے ہیں، ان کا اعتماد ریاستی اداروں سے اٹھتا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے حوالے سے آپ بڑے سے بڑے سانحے پر بھی کوئی سوموٹو ایکشن نہیں لیتے؟ چیف جسٹس نے توجہ دلانے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: مجھے وطن عزیز ہے اور مذہب کے نام پر جاری درندگی اور بربریت پر نہایت افسوس ہے، "لیکن میری بھی کچھ مجبوریاں ہیں اس سے زیادہ میں کھل کر بات نہیں کرسکتا!" لیکن آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس درندگی اور دہشت گردی کے خلاف رٹ دائر کریں متعلقہ اداروں اور لوگوں کے خلاف دستاویزات میری عدالت میں فراہم کریں آپ محسوس کرینگے کہ میں اپنی ذمہ داری کیسے ادا کرتا ہوں!میں اس معاملے میں خود سے ایکشن لینے کا رسک نہیں لے سکتا! اگر آپ رٹ دائر کریں تو میں پوری طرح سے توجہ دیکر اس کیس کو دیکھ لونگا اور قوم کے اندر موجود مایوسی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرونگا! یہ میرا سیاسی بیان نہیں!آپ اس کی صداقت کو میرے رویے میں محسوس کریں گے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے قیام کے لئے میں اپنی ذمہ داریاں کیسے ادا کرتا ہوں! میری مجبوری اور عذر سے آپ سمجھ لیں کہ میں نے اب تک خود سے قدم کیوں نہیں اٹھایا؟!جس پر علامہ محمد امین شہید صاحب نے کہا کہ ہم عنقریب تمام تر ثبوتوں اور دلائل و شواہد کے ساتھ آپ کی عدالت میں آئیں گے....../169 ـ 110