29 اگست 2012 - 19:30

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سینیئر نائب علامہ سید ساجد علی نقوی نے جامعہ الزہرہ ڈیرہ غازی خان میں.

ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کوئی فرقہ واریت نہیں تاہم ہمیں بتایا جائے کہ خودکش حملہ آوروں کی فیکٹری کس نے بنائی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک تشویش ناک حالات اور خطرناک مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے، حکومتیں حالات کو کنٹرول کرنے میں بے بس اور ناکام ہو چکی ہیں، معصوم لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناخت کرکے گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے، جبکہ جی ایچ کیو، مہران بیس اور کامرہ ائیربیس جیسے اہم اداروں پر حملہ حیران کن ہے - لوگ اصل حقائق جاننا چاہتے ہیں کیونکہ کسی منظم ادارہ کی سرپرستی کے بغیر ایسے واقعات رونما نہیں ہو سکتے اس لئے حقائق جاننے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ جب عوام کے اندر موجود غیض و غضب کا لاوا پھٹا تو حکوتی ادارے ناکام ہو جاتے ہیں انہوں نے مزیدکہا کہ اس وقت ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے، مہنگائی کے نفسیاتی اثرات آنے والی نسلوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، پوری قوم ڈپریشن کی حالت میں ہے جبکہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ان تمام مسائل کا حل غیر جانبدرانہ اور منصفانہ انتخابات میں ہے کیونکہ ملک میں آج تک کبھی بھی منصفانہ انتخابات نہیں ہوئے۔شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ ملک میں قیام امن کے لئے چیف الیکشن کمشنر کو آزاد و خود مختار بنا کر اسے آزادی سے کام کرنے دیا جائے جبکہ عبوری حکومت غیر جانبدار، بااختیار اور طاقتور ہونی چاہیئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کا بحال ہونا مشکل نظر آتا ہے تاہم ملی یک جہتی کونسل کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں البتہ ایم ایم اے کایہ فائدہ تھا کہ اس نے فرقہ وارانہ فضاء میں بہتری اور قیام امن کیلئے موثرکردار ادا کیا تھا۔اس موقع پر شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صوبائی نائب صدر سردار کاظم علی حیدری سمیت دیگر مقامی اور صوبائی رہنماء و علماء کرام بھی موجود تھے۔

.......

/169