22 اگست 2012 - 19:30

روس کي وزارت خارجہ نے شام کے سلسلے ميں مغربي ممالک کي پاليسيوں پر شديد نکتہ چيني کي ہےـ

ابنا: روسي وزارت خارجہ نے بدھ کے روز اپنے ايک بيان ميں کہا کہ مغربي ممالک کو شام کا بحران حل کرنے ميں کوئي دلچسپي نہيں ہے اور وہ مخالفين کو حکومت سے مذاکرات پر آمادہ کرنے کي کوئي کوشش نہيں کر رہے ہيں ـ

روسي وزارت خارجہ کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ مغرب شام ميں مخالفين کو حکومت سے مذاکرات کي ترغيب دلانے کے بجائے خاموش بيٹھا ہے اور کوئي اقدام نہيں کر رہا ہےـ

بيان کے مطابق جنيوا اجلاس ميں تمام شرکاء نے شام کي حکومت اور مخالف گروہوں کو مذاکرات کي ميز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کي ذمہ داري قبول کي تھي  تا ہم اب ايسا لگتا ہے کہ مغرب نے خاموشي اختيار کرلي ہےـ

بيان ميں يہاں تک کہا گيا ہے کہ مغربي ممالک  شام ميں سرگرم مسلح گروہوں کو مسلحانہ کارروائياں انجام دينے کي آشکارہ طور پر ترغيب دلا رہے ہيں ـ بيان میں کہا گيا ہے کہ روس شام کي حکومت اور مخالف گروہوں کے درميان مذاکرات کے لئے بھرپور تعاون کر رہا ہےـ

قابل ذکر ہے کہ شام ميں کچھ دہشت گرد گروہ ترکي، قطر، سعودي عرب، امريکا اور صيہوني حکومت کے اشارے پر مارچ دو ہزار گيارہ سے کچھ شہروں ميں دہشت گردانہ کارروائياں انجام دے رہے ہيں ـيہ گروہ بے گناہ شہريوں اور سيکورٹي اہلکاروں  کا قتل عام کرتے ہيں اور حقائق کو مسخ کرکے پيش کرنے اور اس صورت حال کے لئے شام کي حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کي کوشش کرتے ہيں  تا کہ شام کے خلاف غير ملکي حملے کي زمين ہموار ہو سکےـ.......

/169