ابنا: وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے نامہ نگاروں سے گفتگو ميں کہا کہ اگر اسرائيل کو واقعي کچھ عملي اقدام کرنا ہوتا تو وہ اتنا شور شرابا برپا نہ کرتاـ
وزير خارجہ صالحي نے کہا کہ البتہ ہم پوري طرح بيدار اور ہوشيار ہيں اور معمولي سے خطرے کو بھي بہت سنجيدگي سے ليتے ہيں- انہوں نے کہا ممکنہ حملے کي صورت ميں جوابي کارروائي کے لئے ہماري تيارياں مکمل ہيں تاہم اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ صيہوني حکومت کي دھمکيوں ميں کوئي دم خم ہے بلکہ يہ محض نفسياتي حربہ ہےـ انہوں نے کہا کہ تينتيس روزہ جنگ لبنان اور بائيس روزہ جنگ غزہ ميں اسرائيل کي آبرو نيلام ہو چکي ہے اور اب اس کے پاس ايران جيسے عظيم ملک کے لئے خطرات پيدا کرنے کي صلاحيت نہيں ہے بنابريں اس کي دھمکياں کھوکھلي ہيں ـ
وزير خارجہ صالحي نے ليبيا ميں اغواء کر لئے جانے والے ايران ہلال احمر سوسائٹي کے کارکنوں کي تازہ صورت حال کے بارے ميں بتايا کہ دو روز قبل ليبيا کے وزير خارجہ سے اس موضوع پر گفتگو ہوئي ہے اور جلد ہی اس سلسلے ميں خوش خبري ملنے والي ہےـ
وزير خارجہ صالحي نے شام ميں اغواء ہونے والے ايراني زائرين کے بارے ميں بتايا کہ ہم نے مکہ مکرمہ ميں او آئي سي کے اجلاس کے موقعے پر قطر کے وزير اعظم سے اس موضوع پر گفتگو کي تھي ــ.......
/169