11 اگست 2012 - 19:30

ایرانی مطالعات کے عرب مرکز کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ تہران میں منعقدہ شام کانفرنس اس بات کی دلیل ہے کہ ایران شام کے بحران کا سیاسی اور پرامن حل چاہتا ہے اور اس ملک میں ہتھیاروں کے زور پر کسی بھی اقدام کے خلاف ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی مطالعات کے عرب مرکز کے ڈائریکٹر "محمد صالح صدقیان" نے کہا کہ تہران میں شام کے بحران کے حل کے لئے کانفرنس کے انعقاد سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران شام کے مسئلے کے پر امن حل کا خواہاں ہے۔انھوں نے کہا: ہم شام میں بیرونی جارحیت اور ہتھیاروں کے زور سے موجودہ بحران حل کرنے کی کوششوں کے خلاف ہیں۔انھوں نے کہا: شام کے مسئلے میں دو قسم کی خواہشیں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک خواہش یہ ہے کہ اس ملک کا بحران پرامن انداز سے حل کیا جائے اور سیاسی روشوں اور بات چیت کو مطمع نظر قرار دیا جائے جبکہ بعض قوتوں کی خواہش یہ ہے کہ اس ملک پر فوجی چڑھائی کی جائی اور بیرونی مداخلت کو یقینی بنایا جائے۔انھوں نے کہا کہ کوفی عنان کے منصوبے میں واضح کیا گیا تھا کہ شام کا بحران، اس بحران کے تمام فریقوں کی طرف سے حکومت شام کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر، حل کرنے کی کوشش کی جائے اور تمام فریق مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں۔صدقیان نے کہا: تہران کانفرنس، درحقیقت بین الاقوامی برادری، حکومت شام نیز شامی حکومت کے مخالفین کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کا واضح پیغام ہے اور وہ یہ کہ شام کے بحران کا واحد راہ حل، پرامن راہ حل ہے۔.....

/169-110