ابنا: حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا محمد عباس انصاری نے کہا: مجدد قرن حاضراور بانی انقلاب اسلامی ایران امام خمینی(رہ) کے فرمان پر ارض فلسطین خصوصاً قبلہ اول پر صیہونی جارحیت کے خلاف ماہ مبارک رمضان ’’امام خمینی(رہ) نے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دیکر عالم اسلام کی توجہ فلسطینی مظلوم عوام کی برحق جدوجہد اور قبلہ اول کی غاصب صہیونی قبضہ سے آزادی کی ضرورت کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی اور ان کا یہ اقدام صرف فلسطینی مسئلے کو اجاگر کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کی ہر ایسی مسلمان قوم جس کو جبر و طاقت کے بل پر غلام بنایا گیا ہےان کے تئیں ملت اسلامیہ کی یکجہتی اور ہمدردی کی علامت ہے۔‘‘کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع پوری دنیا میں عالمی یوم قدس کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ دنیا ئے اسلام کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیرکے طول و عرض میں بھی جمعۃ الوداع کو قبلہ اول کی آزادی، فلسطینی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور یوم قدس اور دیرینہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل تک جدوجہد کے عزم کے طور یوم کشمیر منایا جاتا ہے۔ اس موقعہ پر ہم صیہونی ریاست کی توسیع پسندانہ اور استعماری پالیسیوں کی زبردست الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فلسطین کے مظلوم و مہقور مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی رہائی اور بازیابی تک ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق سربراہ نے مزید کہا: ہم عالم اسلام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں اپنی طرف سے کوششیں کریں اور اس سلسلے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کو منظم کرنے کیلئے ایک موثرحکمت عملی مرتب کرے۔ ہمارا یقین ہے کہ قبلہ اول کی بازیابی کیلئے عالم اسلام کو متحد ہوکر ایک منظم تحریک چلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ غاصب اسرائیل جس طرح طاقت کے بل پر مظلوم فلسطین عوام کا قتل عام کر رہا ہے اور بیت المقدس کی بے حرمتی کا کوئی بھی موقعہ ضائع نہیں کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں عالم اسلام سے جڑے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے مسلمانان عالم کو متحد ہوکر جدو جہد کرنی چاہئے ۔
عالمی مجلس اھلبیت(ع)کے رکن نے مذید کہا: امام خمینی (رہ) نے اس دن کو یوم القدس قرار دیکر عالم اسلام کی توجہ فلسطینی مظلوم عوام کی برحق جدوجہد اور قبلہ اول کی غاصب صہیونی قبضہ سے آزادی کی ضرورت کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی اور ان کا یہ اقدام صرف فلسطینی مسئلے کو اجاگر کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کی ہر ایسی مسلمان قوم جس کو جبر و طاقت کے بل پر غلام بنایا گیا ہے کے تئیں ملت اسلامیہ کی یکجہتی اور ہمدردی کی علامت ہے۔
مسئلہ کشمیر کا زکر کرتے ہوئے مولانا عباس انصاری نے کہا: فلسطین کی طرح مسئلہ کشمیر گذشتہ سات دہائیوں سے جنوبی ایشائی امن کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت نے یہاں طاقت کے بل پر اور لاکھوں افواج تعینات کر کے کشمیریوں کی مبنی بر حق جدو جہد کو صیہونی طرز پر دبانے کیلئے ہر قسم کے مظالم کا سلسلہ روا رکھا ہوا ہے۔ فلسطینی اور کشمیری عوام دونوں اپنے پیدائشی حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں اور دونوں ’’فلسطین کی طرح مسئلہ کشمیر گذشتہ سات دہائیوں سے جنوبی ایشائی امن کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت نے یہاں طاقت کے بل پر اور لاکھوں افواج تعینات کر کے کشمیریوں کی مبنی بر حق جدو جہد کو صیہونی طرز پر دبانے کیلئے ہر قسم کے مظالم کا سلسلہ روا رکھا ہوا ہے۔‘‘خطوں پر قابض قوتیں حقائق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے انتہائی وحشیانہ اور درندانہ حربوں سے ان مظلوم قوموں کی جدوجہد کو ختم کرنے میں مصروف عمل ہے۔ مہذب دنیا خصوصاً عالمی طاقتیں جو دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کشمیری اور فلسطینی عوام کے قتل و غارت کا تماشا دیکھ رہے ہیں اور مظلوموں کی داد رسی کے بجائے ظالموں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسئلے نہ صرف ان خطوں کے عوام کے مصائب و آلام میں اضافے کے باعث بن رہے ہیں بلکہ یہ مسائل عالم اسلام کی امن و سلامتی کیلئے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم یہ حقیقت واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جنوبی اور مغربی ایشاء میں پائیدار امن کا قیام تب تک ناممکن ہے جب تک نہ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کو تاریخی حقائق کی روشنی میں حل نہیں کیا جاتا۔ تاریخی حقائق کو جھٹلانے سے حقائق نہیں بدلتے اور فلسطین و کشمیر کے مسائل عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایسے مسائل ہیں جن کی حقیقت کو طاقت اور ظلم کے بل پر بدلا نہیں جاسکتا ۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی خاموشی امت مسلمہ کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے لیکن اسلامی ممالک کی تنظیم او۔آئی۔سی۔ کی بے حسی اور بے بسی بھی ایک عظیم ملی المیہ سے کم نہیں ہے۔ لاکھوں انسانوں کی قربانی کے باوجود اگر اب تک فلسطینی اور کشمیری عوام کو اپنے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے تو اس میں اگر چہ ایک طرف استعماری اور صیہونی جارحیت کا عمل دخل ہے تو دوسرے جانب ان سلگتے مسائل کے تئیں اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کی مجرمانہ خاموشی بھی ہے۔
.......
/169