7 اگست 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہےکہ تہران میں کل منعقد ہونےوالا اجلاس اور مکہ مکرمہ میں اسلامی ملکوں کا سربراہی اجلاس شام کے بحران کو مفاہمت آمیز طریقے سےحل کرنے کے بہترین مواقع ہیں۔

ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے آج تہران میں پاکستان کے صدر کی خصوصی ایلچی محترمہ صغری امام سے ملاقات میں کہا کہ کل کا تہران کا اجلاس جس میں علاقے اور دنیا کے بااثر ممالک شرکت کریں گے اور مکہ مکرمہ میں تیرہ اگست کا اسلامی سربراہی اجلاس اس بات کا مناسب موقع ثابت ہونگے کہ شام میں تشدد کی جگہ مفاہمت آمیز طریقے اپنائے جائيں۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ شام میں بعض علاقائي ملکوں کی مداخلت سے حالات بحرانی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر  وہ ملک جو جھڑپوں میں شدت لانے کا خواہاں اور دہشتگردوں کے لئے  ہتھیار بھیج رہا ہے وہ شام کی قوم کا دشمن ہے۔ اس ملاقات میں محترمہ صغری امام نے کہا کہ اسلام آباد شام کےبحران کو مفاہمت آمیز طریقوں سے حل کرنے کا خواہاں ہے اور شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے داخلی امور میں مداخلت کا مخالف ہے اور امت اسلامی کو تفرقے اور انتشار سے بچانے پر یقین رکھتا ہے۔

.......

/169