6 اگست 2012 - 19:30

فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کے سربراہ نے ایران کا دورہ نہ کرنے کی صہیونی ریاست کی درخواست ٹھکرا دی ہے۔

ابنا: ابو مازن محمود عباس نے تہران میں ناوابستہ اجلاس مین شرکت نہ کرنے کے عوض صہیونی ریاست  کے وعدوں کو ٹھکرا دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ تہران میں ہونے والے ناوابستہ تحریک کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس رپورٹ کے مطابق صہیونی ریاست نے محمود عباس سے کہا ہے کہ وہ کیوبا، بنگلادیش، ملیشیا، انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کو رام اللہ آنے کی اجازت دے گي بشرطیکہ محمود عباس تہران کا دورہ نہ کریں۔یاد رہے کہ صہیونی ریاست نے کیوبا، انڈونیشیا، ملیشیا اور بنگلادیش کے وزرائے خارجہ کو رام اللہ کے دورے کے لئے ویزا نہیں دیا ہے کیونکہ یہ ممالک صہیونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور صہیونی ریاست تہران میں منعقد ہونے والے ناوابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور سازشیں کر رہے ہیں۔ تہران میں ناوابستہ تحریک کا سربراہی اجلاس چھبیس سے اکتیس اگست کو ہوگا۔

.......

/169