ابنا: يہ بات انہوں نے پارليمنٹ کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہي- ڈاکٹر علي لاريجاني کا کہنا تھا کہ خطے کے عوام امريکہ سے وابستہ ڈکٹيٹروں کے چنگل سے آزاد ہوں گے اور جمہوريت کي بالادستي قائم ہوکے رہے گي-انہوں نے شام کي صورتحال کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے سياستدانوں سے امريکي حکام کي ملاقاتيں اور شام کي صورتحال کو خراب کرنے کے لئے فوجي اور اسلحہ جاتي حمايت، عالمي شر پسندوں کے نئي سازشوں کي علامت ہے-پارلیمينٹ کے اسپيکر ڈاکٹر لاريجاني نے کہا کہ جب مغرب عالمي قوانين کي پابندي نہيں کر رہا تو دوسرے کيوں اس کي پابندي کريں لہذا اس آگ کے شعلے اسرائيل کے لئے بھي تشويش کا باعث بنے ہوئے ہيں-
.......
/169