ابنا: اس علاقے میں ہر روز مظاہرے ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے سعودی عرب کے حکام خوف و ہراس میں مبتلا ہو گۓ ہیں۔دریں اثناء آل سعود کی حکومت نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے پر کنٹرول کے مقصد سے اس علاقے میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ اپنے تشدد آمیز اقدامات میں بھی شدت پیدا کردی ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق قطیف شہر میں آل سعود کے فوجیوں نے مظاہرین پر حملہ کرکے چودہ سعودی شہریوں کو زخمی کردیا ہے۔قطیف شہر کے مظاہرین پر ایسی حالت میں حملہ کیا گيا ہےکہ جب سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کر کے قطیف شہر کے مظاہرین کو شورش پسند قرار دیتے ہوئے عوام پر فائرنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں عوامیہ اور قطیف کے دسیوں افراد کو صرف اپنے جائز حقوق کے لۓ آواز بلند کرنےکی پاداش میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔یہ بات مسلمہ ہے کہ آل سعود کی حکومت نے عوامی مطالبات کے سلسلے میں جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کی وجہ سے سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب کی بہت سی سیاسی شخصیات نے اعلان کیا تھا کہ اس ملک میں سیاسی قیدیوں کی تعداد تیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان قیدیوں کی آزادی سعودی عرب کے حکام سے اس ملک کے عوام کا ایک اہم مطالبہ ہے۔مشرقی علاقوں میں عوامی تحریک شروع ہونے کے موقع پر سعودی عرب کے حکام یہ تصور کر رہےتھے کہ وہ شیعہ اکثریت والے ان علاقوں میں خوف و ہراس پیدا کرکے حکومت مخالف ہمہ گير تحریک کی روک تھام کر لیں گے۔ لیکن تقریبا ڈیڑھ سال سے جاری یہ عوامی تحریک اب سعودی عرب کے دوسرے علاقوں تک بھی پھیلتی جارہی ہے۔ حالیہ دنوں میں قطیف اور عوامیہ شہروں کے علاوہ مدینے اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی حکومت مخالف مظاہرے کۓ گۓ۔اس میں شک نہیں کہ اب آل سعود کی امتیازی سلوک اور تشدد پر مبنی پالیسی سعودی عرب کے حالات کے لۓ کار گر نہیں ہے۔اگرچہ آل سعود کی حکومت نے برسہا برس سے سعودی عرب میں گھٹن کا ماحول پیدا کر کے اپنے آپ کو اس ملک کے عوام پر مسلط کر رکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب بھی خطے میں آنے والی اسلامی بیداری کے اثرات کی زد میں ہے۔سعودی عرب کے عوام خصوصا اہل تشیع عرب اقوام کی انقلابی تحریکوں اور انقلابات کو سامنے رکھ کر ایک ایسے راستےپر چل پڑے ہیں کہ اب آل سعود کی تشدد آمیز پالیسی بھی ان کو اس راستے سے نہیں ہٹا سکتی ہے۔ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب میں حکومت مخالف اعتراضات کا دائرہ معاشرے کے تمام طبقات تک پھیلتا جارہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ امر ان آمروں کے لۓ خطرےکی گھنٹی ہے جو ایک موروثی روایت کے تحت سعودی عرب میں حکومت کو آل سعود کے بانی عبدالعزیز کے بیٹوں کے درمیان منتقل کرتے رہتے ہیں۔
.......
/169