27 جولائی 2012 - 19:30

لبریشن فرنٹ کے سپریم ہیڈ امان اللہ خان نے وادی میں مذہبی مقامات بالخصوص زیارتوں اور مساجد کونذر آتش کرنے کے دلخراش واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کو کشمیری عوام کے خلاف ایک گہری سازش کا پیش خیمہ قراردیا۔

ابنا: موصولہ بیان میں امان اللہ خان نے کہا کہ گزشتہ ماہ 200سالہ قدیم تاریخی درگا دستگیر صاحب کو پراسرار طریقے سے جلا دیا گیا جبکہ اس اندوہناک واقعے کے چند دن بعد ہی پارمپورہ سری نگر میں قران شریف کی بے حرمتی اور امام بارگاہ میں علم شریف کی بے حرمتی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل بڈگام میں بابا حنیف الدین کی 300سالہ قدیم درگاہ کو جلایا گیا جبکہ تین دن قبل بیروہ بڈگام میں ہی ایک اورجامع مسجد کونذر آتش کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات کی بے حرمتی اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے پے درپے واقعات انتہائی افسوسناک ہے۔

مذہبی مقامات کے تحفظ میں ناکامی پر مقامی حکومت کی شدید مذمت کرتے ہوئے امان اللہ خان نے کہا کہ ان تمام واقعات کے پیچھے مختلف فرقوں کو آپس میں لڑانے اور تحریک آزادی کو بدنام کرکے دبانے کی سازش کار فرما لگتی ہے۔

امان اللہ خان نے کہا کہ ایک طرف مسلمانوں کے مقدس مقامات کی مسلسل بے حرمتی ہو رہی ہے اور دوسری طرف کٹھ پتلی حکومت مسلمانوں کے احتجاج کو دبانے کیلئے تحریکی رہنمائوں کو گرفتار اور نظر بند کر رہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ بانڈی پورہ میں ایک نوجوان مزدور بلال احمد ڈار کو فوج نے مسجد جاتے ہوئے گرفتار کر کے شہید کر دیا اور اس درندگی کے خلاف جب لبریشن فرنٹ نے پرامن احتجاجی جلسہ ترتیب دیاتو فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو گھر میں نظر بند کر دیا گیاجبکہ فرنٹ کے دیگر رہنمائوں کو بانڈی پورہ جاتے ہوئے راستے میں گرفتار کیا گیا جو انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور ریاستی جبر و دہشت گردی ہے۔

امان اللہ خان نے کشمیری عوام بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ان سازشوں کو ناکام بنانے، قومی اتحاد کو پارہ پارہ ہونے سے بچانے اور مسلمانوں کو لڑا کر تقسیم کرنے کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنی آنکھیں اور کان کُھلے رکھیں اور ان سا زشوں کے خلاف پرامن احتجاج کریں۔

امان اللہ خان نے سرینگر میں لبریشن فرنٹ کی طرف سے اس سلسلے میں 5اگست کو بلائے گئے سیمینار کو بروقت اور اہم قدم قرار دیتے ہوئے فرنٹ کی قیادت کے علاوہ دیگر آزادی پسند قیادت، سول سوسائٹی، مذہبی و روحانی قیادت،دانشوروں، وکلاء، قلم کاروں اور دیگر سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندہ افراد سے اپیل کی کہ وہ تمام حالات پر کڑی نظر رکھتے ہوئے اس اہم سیمینارمیں بھرپور شرکت کریں اور اس سیمینار میں ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جس سے اس طرح کے واقعات کو مستقبل میں روکنے اور تحریک آزادی کو حتمی منزل کی طرف بھرپور قوت سے گامزن رکھنے کی پیش بندی ہو سکے۔

.......

/169