27 جولائی 2012 - 19:30

اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کی نقل وحرکت پر عائد سخت ترین پابندیوں کے علی الرغم کم سے کم دو لاکھ پچیس ہزار فلسطینیوں نے ماہ صیام کے دوسرے جمعہ کی نماز ادا کی ہے۔

ابنا: ذرائع کے مطابق مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم‘‘ اقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ’’ کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ قابض صہیونی پولیس اور فوج کی بڑی تعداد نے بیت المقدس اور مغربی کنارے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر نفری بٹھا رکھی تھی جس نے فلسطینیوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کے لیے طرح طرح کےحربے استعمال کیے، تاہم اس کے باجود سوا دو لاکھ فلسطینی قبلہ اول میں پہنچنے اور نماز ادا کرنے میں کامیاب رہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آنے والوں میں بڑی تعداد فلسطینی خواتین کی بھی تھی جو مغربی کنارے، شمالی فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس سے یہاں پر جمع ہوئی تھیں۔

نماز جمعہ کے عظیم الشان اجتماع کے باعث قبلہ اول کی چھتوں، حال اور تمام صحن نمازیوں سے کھچا کچھ بھرے ہوئے تھے اور ماحول ایک عجیب روحانی اور ایمان پرور منظر پیش کر رہا تھا۔

نمازیوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اوقاف اسلامی کے رضاکاروں کی سروسز فراہم کی گئی تھیں۔ جو نمازیوں کے لیے مسجد میں وضو کا پانی اور دیگر ضروریات سہولیات میں مصروف رہے۔ اس موقع پر فلسطینی قافلوں کو بسوں کے ذریعے دور دراز سے لایا گیا۔

نماز جمعہ کی امامت اور خطابت خطیب قبلہ اول شیخ عکرمہ صبری نے کی۔ انہوں نے فلسطینیوں کے عظیم الشان اجتماع پر قبلہ اول میں جمع ہونے کو مسجد اقصیٰ کی آزادی کی نوید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت اور قابض فوج کی جانب سے فلسطینیوں کو قبلہ اول میں نماز کی ادائیگی سے روکنے کے تمام ہتھکنڈے ناکام بنائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اہل فلسطین پر تین فضیلتیں جمع ہیں۔ مسجد اقصیٰ میں نماز کی، جمعہ کے دن کی اور ماہ صیام کی۔

.......

/169