26 جولائی 2012 - 19:30

پاکستان اور امريکا کے درميان نيٹوسپلائي کا تحريري معاہدے طے پاگیا ہے معاہدے ميں کہاگياہے کہ پاکستان سامان کي محفوظ اور تيز منتقلي کے ليے سہوليات فراہم کرے گا اور اس کي کوئي فيس يا ٹيکس نہيں ہو گا اور اگر امريکي سامان کو نقصان پہنچاتو کمرشل کيرئيرز ذمہ دار ہوں گے، جب کہ افغان فورسز کے ليے فوجي سازو سامان لے جايا جا سکے گا.

ابنا: معاہدے ميں دو روٹ طے کيے گئے ہيں جنوبي روٹ کراچي سے چمن کے راستے افغانستان تک ہے اور شمالي روٹ کراچي سے طورخم کے راستے افغانستان تک ہو گا. اگر اس کے علاوہ بھي نيا اور تيز رفتار روٹ ہوا تو پاکستان امريکا کو پيشگي آگاہ کرے گا..امريکي سامان کے ليے پاکستان ميں کسي وئير ہاو?س يا اسٹوريج کي اجازت نہيں ہوگي.

پاکستان کوئي بھي ايسي سپلائي روک سکے گا جو معاہدے سے ہٹ کر ہو گي. پاکستان اور امريکا کے متعلقہ حکام معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لينے کے ليے ہردوماہ بعد ملاقات کريں گے دونوں ممالک کے دستخطوں کے بعد معاہدہ31 دسمبر 2015 تک قابل عمل ہوگا،باہمي رضا مندي سے ايک سال کي توسيع کي جا سکے گي ادھرجماعت اسلامي کے سيکريٹري جنرل لياقت بلوچ نے کہاہے کہ نيٹو سپلائي بحالي کا فيصلہ قبول نہيں،کراچي، طور خم اور چمن ميں فيصلہ کن مزاحمتي دھرنے ديئے جائيں گے. منصورہ سے جاري بيان ميں لياقت بلوچ نے کہا کہ امريکي حکمران نيٹو سپلائي بحالي کيلئے ہر حربہ استعمال کر رہے ہيں جبکہ پاکستاني حکمران بھي ان کے سامنے جھک گئے ہيں جنرل لياقت بلوچ نے مذید کہاہے کہ پاکستاني قيادت کا امريکي مفادات کيلئے سرگرم ہونا قومي سلامتي اور خود مختاري کيلئے تباہ کن ہوگا.

.......

/169