23 جولائی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے تاکید کی ہے کہ شام کے امور میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کوفی عنان کی تجویز شام کے بحران کے حل کا سب سے بہترین راستہ ہے۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے آج ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں کی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ کوفی عنان کی تجویز ناکام نہیں ہوئي ہے التبہ بعض طاقتیں اس تجویز کو ناکام بنانے کے درپے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں بعض طاقتیں شام میں امن و استحکام کی برقراری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے بلغاریہ میں اسرائيلی سیاحوں کی بس پر حملے میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی صیہونی وزیر اعظم کے دعوے کے بارے میں کہا کہ صیہونی حکومت، کہ جو خود دنیا کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کی  منظم  کارروائیوں میں ملوث ہے اور جس نے مختلف ملکوں میں بے گناہ انسانوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رکھا ہے اور جو فلسطینی شخصیات اور سربراہوں اور استقامت کے سربراہوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے اور جس نے ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے،  آگے کی جانب فرار کے لۓ عموما دہشت گردانہ کارروائیوں کا الزامات دوسرے ممالک پر لگا دیتی ہے۔رامین مہمان پرست نے جمہوریہ آذربائیجان کے اٹارنی جنرل اور قومی سلامتی کی وزارت کی جانب سے جاسوسی کی بنا پر ایران کی مذمت کۓ جانے کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے تعلقات بہت عمدہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بہت زیادہ تاریخی ، ثقافتی اور اعتقادی اشتراکات پائے جاتے ہیں اور چونکہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بعض طاقتوں اور ممالک کے لۓ خوش آئند نہیں ہیں اس لۓ حکام کی زیادہ ہوشیاری کی ضرورت ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے میانمار کے مسلمانوں کے قتل عام سے متعلق ایران کے موقف کے بارے میں بھی کہا کہ ہم نے عالمی اداروں اور اسلامی تعاون تنظیم سے بھی کہا ہے کہ وہ میانمار کے مسلمانوں کے سلسلے میں فوری طور پر اقدام انجام دے۔ رامین مہمان پرست نے مزید کہا کہ میانمار کے المیے سے اسلامی دنیا کو شدید دکھ اور افسوس ہوا ہے اور اس بات کی کوشش کرنی چاہۓ کہ اس ملک میں مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔

.......

/169