اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق، شام کے تزویری (اسٹراٹیجک) امور کے مبصر "سلیم حربا" نے کہا کہ محاذ مزاحمت کی حکمت عملی اور علاقے پر مغربی قوتوں کے تسلط کی مخالفت ایک ہی حکمت عملی ہے لیکن اس اسٹریٹجی کے نفاذ کی روشیں وقت اور مقام کے لحاظ سے اور حالات و واقعات کے حوالے سے مختلف ہوسکتی ہیں۔ انھوں نے کہا: شام نے مزاحمت میں مرکزی کردار ادا کیا ہے اور اسی وجہ سے آج حملوں اور سازشوں کا سامنا کررہا ہے اور شام میں دہشت گرد ٹولوں کے اقدامات اس جنگ کا حصہ ہیں جو شام کی حکومت کے خلاف یہودی صہیونی ریاست نے شروع کررکھی ہے اور یہودی ریاست عرب ریاستوں اور ترکی یا پھر عرب ریاستوں اور ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے سے امریکی منصوبے "یعنی عظیم تر مشرق وسطی کے قیام کے منصوبے" کے نفاذ کی کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے کہا: حکومت شام میں طاقت بھی ہے اور عزم و ارادہ بھی ہے اور وہ ہر وقت اور ہر مقام پر دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پر عزم بھی ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عرب ریاستوں اور سعودی عرب و قطر کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف اس کی جنگ، اس جنگ کا آدھا حصہ سمجھا جاتا ہے اور حقیقی جنگ شام کی تزویری حکمت عملی کے عنوان سے، اصلی دشمن یعنی اسرائیل کے خلاف ہے جو پوری قوت سے جاری ہے۔ انھوں نے کہا: شام کے خلاف ہونے والے ہر اقدام میں یہودی ریاست بلاواسطہ یا پھر بالواسطہ طور پر ملوث ہے اور شام کے اندر دہشت گرد ٹولوں کی امداد بھی اسرائیلی ایجنسیاں ہی کررہی ہیں لیکن یہودی ریاست کی ایجنسیاں یہ امداد سعودی عرب، قطر اور ترکی کے ذریعے پہنچا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا: دہشت گردی در حقیقت شام میں ایک وسیع تر جنگ آغاز کرنے کی تمہید ہے اور جارحیت و دہشت گردی شام میں اسرائیلی ریاست کے اصلی اوزار ہیں جس کے لئے مالی ایندھن کی فراہمی کی ذمہ داری عرب ریاستوں کو سونپ دی گئی ہے۔انھوں نے کہا: قبلہ اول پر قابض یہودی ریاست اس وقت شام میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا نتیجہ دیکھنے کے درپے ہے چنانچہ اس نے مقبوضہ جولان کے علاقے سے خطرات پیدا کرنے کی کوششوں میں اضآفہ کیا ہے اور اب عرب ریاستوں کے ذرائع کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ذرائع ابلاغ بھی شام کے خلاف شدید تشہیری مہم چلارہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دمشق میں ہونے والے دھماکے میں موساد کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
وہابی دعوت؛ حضرت زینب (س) کا حرم منہدم کیا جائے
.......
/169