ابنا: "علی اکبر ولایتی" نے کہا کہ کوفی عنان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کی مدد کے بغیر شام کے مسلے کا پر امن حل نہیں نکل سکتا. انہوں نے مزید کہا کہ کوفی عنان کے دورہ کا مقصد ایران کو شام کے بارے میں اپنی گزارشات آگاہ کرنا اور تہران کی رائے جاننا تھا.علی اکبر ولایتی نے امریکہ اور اسراییلی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے ان عناصر نے یہ قسم کہائی ہے کہ شام جیسے امریکہ اور اسراییل مخالف ملک میں امن نہ قائم ہوجائے. انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک بہانے بازی کرتے ہیں اگر یہ اتنے ہی جمہوریت پسند ہیں تو کیوں شام میں حالات بگاڑنے کے لیے کچھ ملکوں کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں. ولایتی نے مزید کہا، صدر بشار الاسد نے شامل میں اصلاحات کی ہیں جیسے کہ انہوں نے شامی آئین میں ترامیم کیں اور ملک میں ایک سیاسی پارٹی کی بجائے مختلف پارٹیوں کو سیاست کرنے کا موقع فراہم کیا. عالمی تنظیم برائے بیداری اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ کوفی عنان نے شام میں جنگ بندی کی درخواست کی تھی جو کہ شامی حکومت نے تو تسلیم کرلی تھی مگر اپوزیشن نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا اور ملک کے مختلف حصوں میں فسادات کر کے حالت کو مزید خراب کردیا. انہوں نے یہ بات کرتے ہوئے کہ کوفی عنان اس بات سے بہت پریشان ہیں، کہا کہ امریکہ، اسراییل اور خطے کے کچھ عرب ممالک شام کے حوالے سے کچھ عزائم رکھتے ہیں، اسی لیے یہ عناصر شام میں حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں تا کہ اس ملک کی اسراییل کے خلاف مضبوط پوزیشن کو کمزور کیا جائے. ایران کے سپریم لیڈر کے سنئیر مشیر برائے بین الاقوامی امور نے ایران اور گروپ 1+5 کے در میان ہونے والے جوہری مذاکرات کو بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین اور روس ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں منصفانہ رائے رکھتے ہیں لیکن باقی گروپ 1+5 کے ممبران ان مذاکرات سے کچھ اور مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے تحت ایران کا یہ حق ہے کہ وہ پر امن جوہری توانائی کی صلاٰحیت حاصل کرے، جیسے کے دنیا میں اور ممالک جوہری صلاحیت کر رہے ہیں. علی اکبر ولایتی نے یہ سوال کیا کہ کیوں ایران پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں جو کہ ایرانی عوام پر ظلم کرنے کے مترادف ہے. انہوں نے کہا کہ مغربی پابندیوں کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے. ولایتی نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کے پہلے دن سے ایرانی عوام پابندیوں کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام سوچتے ہیں کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغرب کی بات مان بھی لیں تو وہ کسی اور بہانے سے ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکیں گے. علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ہم جیتنا پیچھے جائیں گے مغربی ممالک ہم پر اتنا ہی دباؤ بڑھائیں گے اس لیے ایرانی عوام پابندیوں کو سہہ لیں گے اور مقابلہ جاری رکھیں گے. انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایک ایسا وقت آئے گا جس میں ہمیں پابندیاں نظر نہیں آئیں گی لیکن اگر پابندیاں ہوں بھی تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا. ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر برائے بین الاقوامی امور علی اکبر ولایتی نے اس بات پر زور دیا کہ پابندیوں کے خلاف مقابلہ جاری رہے گا اور ایرانی عوام کبھی اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے........./169
18 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 330189
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر برائے بین الاقوامی امور کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوص نمایندہ کوفی عنان نے شام کے حوالے سے ایران کے کردار کی اہمیت کو تسلیم کیا.