اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں قومی سلامتی کے دفتر کے سامنے بم دھماکے کے نتیجے میں شام کے وزیر دفاع داؤد راجحہ اور کئی اہم اہلکار جاں بحق ہوگئے ہیں۔ دھماکہ ایسے حال میں ہوا کہ بعض وزراء اور قومی سلامتی کے متعلقہ اہلکار قومی صورت حال پر بات چیت کرنے کے لئے اہم میٹنگ میں شریک تھے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، قطر، سعودی عرب اور ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔ اس حملے میں متعدد اعلی اہلکار بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ مغربی و مغرب و اسرائیل نواز عرب نیوز چینلوں نے دہشت گردی کے اس افسوسناک اقدام کا تشہیری حوالے سے پورا پورا ساتھ دیا اور افواہ اڑائی کہ اس حملے میں شام کو وزیر داخلہ بھی ہلاک ہوگئے ہیں لیکن شامی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وزیر داخلہ میجرجنرل محمد ابراہیم الشعار اس حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ دمشق میں العالم کے بیوروچیف حسین مرتضی نے بھی کہا کہ محمود الشعار زندہ سلامت ہیں۔امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، قطر، سعودی عرب اور ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے اس حملے میں صدر بشار اسد کے بھانجے اور چیف اور اسٹاف کمیٹی کے نائب چئیرمین "آصف شوکت" بھی جاں بحق ہوگئے ہیں اور دشمن ذرائع ابلاغ کے اس پروہیگنڈے کی تردید کردی گئی ہے کہ اس حملے میں متعدد وزراء جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اسرائیل مخالف مزاحمت کے خلاف برسر پیکار دہشت گردوں کے اس حملے میں شامی نائب صدر کے فوجی امور کے مشیر بریگیڈئیر حسن الترکمانی بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ ادھر شامی افواج کے ترجمان نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ دمشق کے قریب منطقۃالقابون شامی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد دہشت گرد ہلاک کئے گئے ہیں۔

بریگیڈیئر فہد جاسم
اطلاعات کے مطابق بریگیڈئیر فہد جاسم شام کے نئے وزیر دفاع مقرر کئے گئے ہیں وہ مسلح افواج کے چیف کمانڈر کے نائب بھی ہونگے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق دمشق میں حالات معمول پر ہیں اور اس شہر میں کسی قسم کی کوئی جھڑپ نہیں ہورہی ہے۔شامی رکن پارلیمان: شامی افواج سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم ہیںشام کے رکن پارلیمان "شریف شحاده" نے کہا: سلامتی کے اعلی اہلکاروں پر دہشت گردانہ حملہ درحقیقت شام کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے لیکن شامی افواج ان سازشوں کا بھرپور مقابلہ کرے گی۔

رکن پارلیمان "شریف شحاده"
انھوں نے کہا: آج کی دہشت گردانہ کاروائی حالیہ چند دنوں میں دہشت گردوں کے خلاف شدید اور مؤثر فوجی کاروائیوں کا رد عمل تھی جن میں دہشت گردوں کو زبردست نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اور اب ان کے پاس بم دھماکوں کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے۔ انھوں نے وزیر دفاع اور ان کے معاون کے جاں بحق ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: قطر، سعودی عرب اور ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گرد اور پس پردہ قوتیں سمجھ رہی ہیں کہ گویا شام کی فوج افراد کے سہارے قائم ہے جبکہ ہماری فوج ایک کہنہ مشق فوج ہے جس نے 1973 کی لڑائی کے بعد صہیونی ریاست کا مسلسل مقابلہ کیا ہے اور اسرائیل کے حملوں کے زمانے میں لبنان کا بھی دفاع کرچکی ہے اور اس فوج کے پاس لائق کمانڈروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔انھوں نے کہا: اس طرح کی کاروائیوں سے ہماری فوج کا مورال مزید بلند ہوا ہے اور وہ شام کے تحفظ کے لئے زیادہ پرعزم ہوکر میدان میں آئی ہے۔ شام کی آبادی 2 کروڑ تیس لاکھ ہے اور ہماری فوج پیشہ ورانہ ہے جو دس لاکھ پرعزم افسروں اور جوانوں پر مشتمل ہے اور ہر قسم کی سازشوں کا بھرپور مقابلہ کرسکتی ہے۔ انھوں نے کہا: دہشت گرد مثلث "سعودی عرب، قطر اور ترکی" نے جو گندی جنگ شام میں شروع کررکھی ہے بہت جلد ان ممالک کا گریباں پکڑ لے گی۔ــ حالات شامی افواج کے قابو میں ہیںدمشق میں العالم کے بیورو چیف کی رپورٹ کے مطابق شام کے وزیر دفاع اور دیگر اہلکار کار بم دھماکے میں جاں بحق یا زخمی ہوگئے ہیں تا ہم صورت حال معمول کے مطابق ہے اور شامی افواج کو الرٹ رکھا گیا ہے گوکہ دارالحکومت میں کوئی خاص فوجی کاروائی نہیں ہورہی ہے اور نواحی علاقوں میں دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ بم دھماکے کے بعد شام دشمن ذرائع ابلاغ نے افواہ اڑائی تھی کہ شام کے اعلی حکام صدر اسد سے الگ ہوگئے ہیں لیکن یہ ایک تشہیری حربہ ہے اور حکومت کا نظام پوری قوت سے برقرار ہے جبکہ اس طرح کی تشہیری مہم دشمنوں کی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔ العالم کے بیوروچیف، جو حملے کا نشانہ بننے والی عمارت سے رپورٹ دے رہے تھے، نے کہا کہ عمارت کا بیرونی حصہ تقریبا تباہ ہوچکا ہے اور زخمیوں کو اسپتالوں میں پہنچاد یا گیا ہے اور ممکن ہے کہ زخمیوں میں بعض سیکورٹی کمانڈر بھی ہوں۔ نھوں نے کہا: میں نے دھماکے کے بعد دارالحکومت دمشق کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور مجھے ملک کے دوسرے شہروں سے بھی رپورٹیں موصول ہوئیں؛ ہم نے شام کو معمول کے مطابق پایا اور صرف دھماکے کے مقام کے ارد گرد کے علاقوں میں ہم نے فوجیوں کو سیکورٹی اقدامات سخت کرتے ہوئے دیکھا جبکہ دوسرے علاقے پرسکون ہیں گوکہ ملک کے بعض علاقوں میں دہشت گرد ٹولوں کا تعاقب کرتے ہوئے سپاہی نظر آئے۔ انھوں نے کہا: مغربی اور مغرب نواز عرب ذرائع ابلاغ کی تشہیری جنگ کے برعکس، شام کے سیکورٹی اہلکاروں کو حملے میں کوئی نقصان نہيں پہنچا ہے جبکہ افواج اور دہشت گردوں کے درمیان "المیدان" کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ المیدان کے علاقے میں مسجد الماجد کے قریب زبردست جھڑپیں ہوئی ہیں اور اس مسجد کے قریب بھی ایک دھماکہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا: دہشت گردوں نے المیدان کے مکینوں کو گھر بار چھوڑنے کے لئے 24 گھنٹوں کی ڈیڈلائن دی تھی اور کہا تھا کہ اگر انھوں نے علاقہ خالی نہ کیا تو مارے جائیں گے لیکن شامی فوج نے نہایت تیز رفتاری سے ان کا تعاقب کرکے درجنوں اندرونی اور بیرونی دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ باقیماندہ دہشت گرد بھاگ گئے جن کا تعاقب جاری ہے۔ــ 270 دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیئےشام کے دارالحکومت دمشق میں آج 270 دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو سرکاری افواج کے حوالے کیا ہے۔

العالم نے رپورٹ دی ہے کہ دمشق میں دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کرتے ہوئے شام کی سیکورٹی فورسز نے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک اور بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ المیدان کے علاقے کو آج شامی افواج نے گھیرے میں لیا تھا اور جھڑپوں کے دوران متعدد افراد کو ہلاک کرلیا تھا جس کے بعد باقی ماندہ (270) دہشت گردوں نے موت کے خوف سے ہتھیار ڈال دیئے اور خود کو سرکاری افواج کے حوالے کیا۔ ــ شام: اقوام متحدہ غیرجانبدار رہےشام کی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ ایک عالمی تنظیم ہے اور اس کو شام کے بحران کے حوالے سے غیرجانبدار رہنا چاہئے۔اطلاعات کے مطابق شامی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کو پیشکش کی ہے کہ ایک بین الاقوامی تنظیم کی حیثیت سے غیرجانبدار رہے اور شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہر اس منصوبے کا حصہ بنے جس میں بات چیت اور گفتگو کو ترجیح دی جاتی ہے اور اس کا مقصد شام میں حقیقی امن کی بحالی ہو اور یہ عالمی تنظیم شام میں بیرونی مداخلت روکنے میں کردار ادا کرے۔ شامی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ شام کے اندر سرگرم عمل دہشت گردوں کے لئے بیرونی مالی، فوجی اور تشہیری حمایت، کا سد باب کرے۔شامی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ انسانی حقوق کونسل اور دوسری بین الاقوامی تنظیموں کے غیر پیشہ ورانہ اور سیاسی فیصلوں کی وجہ سے مسلح دہشت گرد ٹولوں کو شہ ملی اور اسی وجہ سے شام میں عوام کا قتل عام بدستور جاری ہے۔
ــ دمشق دھماکہ، عرب لیگ کا اجلاس آئندہ اتوار کوعرب کے بے بس سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے بدھ کے روز دمشق میں ہونے والے بم دھماکے کے فورا بعد اعلان کیا ہے کہ دھماکے سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے عرب لیگ کا اجلاس اتوار کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہورہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل، نبیل العربی نے کہا ہے کہ "شام کے دارالحکومت دمشق میں ہونے والے دھماکے سے شام کے حالات میں مؤثر تبدیلی آنے کا احتمال ہے۔یاد رہے کہ عرب لیگ اس وقت مکمل طور پر آل سعود اور آل ثانی (قطر) کے زیر اثر ہے اور شام میں رونما ہونے والے حالات میں اس تنظیم نے امریکہ، فرانس، اسرائیل، ترکی، برطانیہ، بلادالحرمین کے آل سعود اور قطر کے آل ثانی کے دباؤ اور زبردست رشوت اور رقوم کی ادائیگی کی وجہ سے، دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ ــ دھماکے کے بعد حکومت کے حق میں عوامی مظاہرےاطلاعات کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں دہشت گردی کی کاروائی کے بعد شہر کے مختلف حصوں اور ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں اور ان کے بیرونی عرب و غیر عرب آقاؤں کے خلاف اور صدر بشارالاسد کی حمایت میں عوامی مظاہرے ہوئے ہیں۔

دمشق میں العالم کے بیورو چیف نے رپورٹ دی ہے کہ دمشق میں ہونے والے کار بم دھماکے کے بعد ملک کے دوسرے علاقوں کے علاوہ دمشق کے میدان المحافظہ سمیت کئی علاقوں میں عوامی مظاہرے ہوئے اور مظاہرین نے بیرونی قوتوں سے وابستہ دہشت گردوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر بشارالاسد کے حق میں نعرے لگائے۔ انھوں عرب ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کے خلاف نعرے بازی کی جو اپنے عوام کو سانس لینے کی اجازت نہيں دیتے اور شام میں جمہوریت اور عوام کی حمایت کے بہانے کشت و خون کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق شام کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ میجرجنرل هشام الاختيار، جو آج کی دہشت گردانہ کاروائی میں زخمی ہوئے تھے آپریشن کے بعد سی سی یو سے وارڈ میں منتقل ہوئے ہیں ار ان کی صحت تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔ ــ ایرانی وزارت خارجہ نے د