16 جولائی 2012 - 19:30

قاہرہ… مصري حکومت نے يورپي يونين کي طرف سے ايران کے خلاف يکطرفہ پابنديوں کے باوجود نہر سويز سے ايراني آئل ٹينکروں کے گزرنے پر کوئي پابندي عائد نہيں کي.

ابنا: ايک اعلي مصري عہديدار نے صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتايا کہ ايران پر يورپي يونين کي طرف سے عائد کردہ پابنديوں کا مصر سے کوئي تعلق نہيں بلکہ ان پر صرف يورپي رکن ممالک عملدرآمد کے پابند ہيں. اس لئے مصر نہر سويز سے ايراني بحري جہازوں کي آمد و رفت پر کوئي پابندي عائد کرنے کا ارادہ نہيں رکھتا. ادھر ايراني حکام نے کہا کہ ديگر ممالک کي طرح مصر کے ذريعے ايراني آئل ٹينکروں کي نقل و حمل اب بھي جاري ہے اور پابندي سے متعلق مصري حکومت سے اب تک کوئي پيغام موصول نہيں ہوا. واضح رہے کہ ترکي ايران کے خام تيل کا سب سے بڑا خريدار ہے اور صرف مئي ميں ترکي نے ايک لاکھ 60 ہزار بيرل ايراني تيل نہر سويز کے ذريعے حاصل کيا ہے.

.......

/169