ابنا: چيف جسٹس پاکستان افتخار چوہدري نے جوڈيشل کمپليکس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مزيد کہا کرپشن روکنا ہمارے منصب کا تقاضا ہے، کالا کوٹ ،کالاکيمرا 5سال سے آئين اور عدليہ کي آزادي کي جدوجہد کررہا ہے ، ان کا کہناتھاکہ رشوت ،کرپشن عدليہ ميں ہو يا عدليہ سے باہر برداشت نہيں کرينگے. ہم نے سرکاري اداروں ميں ہونے والي کرپشن کا نوٹس ليا،ہمارے نوٹس لينے سے ملک کے اربوں روپے واپس آئے.چيف جسٹس نے کہا کہ آئين کي بالادستي کے ليے وکلا ء رضاکارانہ کردار ادا کريں،ان کا کہناتھا کہ وہ قوميں ترقي کرتي ہيں جہاں چھوٹوں اور بڑوں ميں کوئي فرق نہيں ہوتا . ايسي قوميں کامياب ہوتي ہيں جن ميں امير اور غريب کا فرق نہ رکھا جائے. جب تک غيرت مندقوم فوج کے پيچھے کھڑي نہ ہو ، وہ جيت نہيں سکتي. بلوچستان ميں قانون اور آئين پرعملدرآمد کافقدان ہے، جسے دورہوناچاہيے،جوڈيشل پاليسي کي وجہ سے مقدمات کي طوالت ختم ہو رہي ہے. ججوں ،وکلا کي ذمے داري ہے آئيني تجاوز کيخلاف مضبوط ديواربن جائيں.
.......
/169