13 جولائی 2012 - 19:30

روس کےسیاسی ماہرین نے شام کےبحران کےحل میں ایران کےاہم کردارپرتاکیدکی ہے۔

ابنا: مشرق وسطی اور ایشیاکےامور میں روس کےریسرچ سنٹر کےسربراہ لیناسوبونینا نے کہاہے کہ روس شام کےبحران کےپرامن حل کےلئے عالمی کانفرنس میں تہران کےوفد کی شرکت پرتاکیدکرتاہے۔

 لیناسوبونینا نےالعالم کوانٹرویودیتےہوئےکہاکہ ماسکو مذاکرات کےذریعے شام کےبحران کےحل کاخواہاں ہے اورثالثی فریق ان مذاکرات کی زمین ہموارکریں ۔

لیناسوبونینانےکہاکہ ماسکوموجودہ حالات میں دمشق کےخلاف پابندیاں عائدکرنےپریقین نہيں رکھتا اوروہ جانتاہے کہ مغربی ممالک شام کےخلاف بین الاقوامی پابندی عائدکرناچاہتےہیں۔

روس کےاسٹڈیزسنٹرکےسربراہ نےشام کےمسئلےمیں بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کی مدت ختم ہونےکےمسئلےکوسب سےاہم قراردیا اورکہاکہ ماسکونےتجویزدی ہےکہ یہ تعیناتی بیس جولائی کےبعد بھی جاری رہنی چاہئےاورشام میں مبصرین کی تعداد میں اضافہ ہوناچاہئے۔

روسی ماہر نےکہاکہ کوفی عنان اورشام کےبعض پڑوسی ممالک ، شام میں بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کی مدت میں توسیع پراتفاق کرتےہيں۔

....... /169