ابنا: اس کا نفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہاکہ سامراجی ممالک جھوٹے نعروں کے ذریعے اقوام کے ذخائر کی لوٹ مار کرتے ہیں۔
صدر مملکت نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ غلامی کے دور میں ظلم بہت نمایاں تھا ، کہا کہ سامراجیوں نے انسانی حقوق ، اقوام کی آزادی اور دفاع ، بہتر معیار زندگی اور آسائش کے وعدوں اور عظیم اقتصادی اور سیاسی ترقی و پیشرفت کے نعروں کے ذریعے اقوام کو بہت زیادہ دھوکہ دیا ہے تاکہ ان کے ذخائر کو لوٹ سکیں۔
صدر مملکت نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ انسان کو ایک عظیم زندگی کے لۓ پیدا کیا گیا ہے لیکن ابھی تک یہ مقصد پورا نہیں ہوسکا ہے ، کہا کہ اس میں شک نہیں کہ آج انسان اور حقیقت انسان پر ایسا ظلم کیا جارہا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔
سامعین بدقسمتی سے مسلم دنیا کے بیشتر ممالک بالخصوص عرب دنیا میں ضمیر فروش، خائن، بدکردار، جابر و ظالم، بے ایمان اور گمراہ حکمرانوں نے سالہا سال سے زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے۔ اور وہ جمود کو متاع حیات جان کر ہر قسم کے تغیر، ارتقا اور بیداری کو اپنی موت تصور کرتے ہیں۔ لہٰذا مدت سے اسی کوشش میں ہیں کہ عوام پر غفلت و بے خبری کا عالم طاری رہے۔ اس جمود کو بر قراررکھنے کیلئے ان جارح حاکموں نے ہر طرح کے جتن کئے۔ انہوں نے اپنے فرسودہ نظام کو دوام بخشنے کی خاطر کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ کوئی ایسا ہتھکنڈہ نہیں ہے جس کو انہوں نے استعمال نہ کیا ہو۔
کوئی ایسی منافقانہ چال نہیں جس سے انہوں نے استفادہ نہ کیا ہو۔ اس پر مستزاد یہ کہ مغرب بالخصوص استعماری طاقتوں کی غلامی کے پھندے کو انہوں نے کسی اعزازی میڈل سے کم تر نہیں جانا۔ حرمِ پاک کے قرب وجوار میں موجود ان حاکم نما استعماری غلاموں نے وائٹ ہاؤس کو ہی مرکز امید گردانا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ماسوائے اپنی ذات اور مٹھی بھر پیروکاروں کے تمام مسلمانوں کو بت پرست اور مشرک تصور کرتے ہیں۔
قرآنِ مجید میں ایک مومن کیلئے جو ضابطۂ اخلاق محبت و نفرت کے تعلق سے مقرر ہوا ہے اس کے مطابق ایک مومن ہرگز ہرگز دوسرے مومن سے دشمنی کرکے استعمار سے گٹھ جوڑ نہیں کرسکتا ہے اگر اس نے ایسا کچھ کیا تو جان لینا چاہیئے خدا کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن استعمار کے ان کاسہ برداروں کی دوستی و دشمنی کا معیار قرآنی ہدایات کے بالکل برعکس ہے۔ انہیں حماس اور حزب اللہ جیسی تحریکوں کے ساتھ خدا واسطے کا بیر ہے۔ انقلابِ اسلامی ان کی آنکھوں میں گذشتہ تین دہائیوں سے کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ یہ اسی آگ میں جلے بُھنے جارہے ہیں کہ اگر ان تحریکوں کا جذبہ ان کی ریاستوں میں بھی نفوذ کر گيا تو ان کے اقتدار کی خیر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اسرائیل کو بھی اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں۔ اور امریکی چھتر چھایا کو اپنے تئیں واحد محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔
اگر ان کی آنکھوں کو حقیقت بینی ذرہ برابر بھی راس آجاتی تو یہ طولِ تاریخ نیز معاصر عالمی منظر نامے میں اس بات کا ضرور مطالعہ اور مشاہدہ کرپاتے کہ حق پرستوں کی جماعت بڑی سخت جان ہوا کرتی ہے۔ یہ موت کی پیٹھ پر سوار ہوکر اپنی منزل ِمقصود پر خیمہ زن ہو جاتی ہے۔ جتنا اسے دبایا جائے اتنا ہی ابھرتی ہے۔ ہر چند عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے حکمران بھی ظلم و تعدی پر اُترآئیں۔ اس جماعت سے وابستہ جیالے کبھی پست ہمت اور بد دل نہیں ہوتے۔
عالمِ اسلام سے تعلق رکھنے والے ارباب دانش نہ جانے کس طرح یہ زہریلے گھونٹ پی کر اُف تک نہیں کرپاتے ہیں کہ حرمِ پاک کے خرچے پر پلنے والے مفتیانِ عظام وقتاً فوقتاً قبلۂ اول کے غاصبوں کی سلامتی کا اہتمام اپنے فتؤوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایسے فتوے بارہا ارضِ مقدس مکہ معظمہ سے صادر ہوئے ہیں۔ جن کے مطابق اسرائیل کے دشمن نمبر ایک کے حق میں خیر کی دعا کرنا حرام قرار پاتا ہے۔ جس کا بالواسطہ مقصد اور کیا ہوسکتا ہے کہ اسرائیل سلامت رہے پائندہ رہے۔ قبلۂ اول پر اس کا قبضہ برقرار رہے۔ اور فلسطینیوں اور لبنانیوں کے خون کی ہولی کھیلتا رہے۔ ان مفتیوں کو تیونس، لیبیا، یمن، مصر بحرین میں کلمہ گو مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ اس پر چپ سادھے بیٹھے ہیں۔
بہر کیف دنیائے عرب کے عام انسان نے اپنے عیاش طبیعت حکمرانوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا ہے۔ انقلاب کے فلک شگاف نعروں سے قصر ہائے امارت لرزہ براندام ہو گئے ہیں۔ تیونس کے زین العابدین اور یمن کے علی عبداللہ صالح جیسے ڈکٹیٹر تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔ حسنی مبارک کی بد انجامی دیکھ کر اسی قماش کے دیگر عرب حکمراں سکتے میں آگئے ہیں اور انہیں اپنے انجام کی فکر ستارہی ہے۔
مصر میں اخوان المسلمین کے رہنما نے صدارتی الیکشن کا میدان مار لیا ہے۔ اسلامی بیداری کا مظاہرہ ایک لہلہاتی فصل ہے جس کی تخم ریزی تینتس سال قبل ایک مردِ بزرگ امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) نے کی تھی۔ اس فصل کی نگہبانی گزشتہ تین دہایئوں سے ایران کی اعلیٰ روحانی قیادت کر رہی ہے۔اور اس وقت بھی عربی انقلاب کو صحیح سمت دینے کے لئے کوشان ہے۔ مسلم دنیا خصوصا عرب ریاستوں میں یہ سیاسی تبدیلی ملتِ اسلامیہ کے لئے کسی نیک شگون سے کم نہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلامی انقلاب سمیت عالم اسلام میں اٹھنے والی حالیہ تحریکوں میں خواتین نے نہایت ہی اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کے اس کردار کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی فکری رہنمائی کے لیے تہران میں خواتین کی حالیہ کانفرنس منعقد کی گئی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ خواتین اسلامی تحریکوں میں مزید بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی اور اپنے ملکوں میں ایک حقیقی اسلامی حکومت قائم کرنے میں مدد دیں گی۔.......
/169