9 جولائی 2012 - 19:30

وطن عزیز پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اور عوام کے مذہبی و شہری حقوق کی جس جدوجہد کا آغاز ماضی میں بزرگان نے کیا اور پھر جسے مرحوم قائدین علامہ سید محمد دہلوی علامہ مفتی جعفر حسین اور شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی نے آگے بڑھایا ہم آج بھی انہی کی فکر سے الہام لیتے ہوئے اس جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس راستے میں معصوم قیمتی جانوں کی قربانیاں بھی جاری ہیں۔

ابنا: ان خیالات کا اظہار علامہ سید ساجد علی نقوی نے ’’یوم نفاذ فقہ جعفریہ ‘‘ کے موقع پر ملتان اور مظفر گڑھ میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ 6 جولائی کادن عوام کے ان جائز حقوق کے حصول کا دن ہے جو آئین نے تمام مکاتب فکر کو دئیے ہیں۔

یہ دن اتحاد و وحدت کے لیے سنگ میل تھا اور اس دن تمام مسالک اور مکاتب کے درمیان ایک دوسرے کے عقائد ونظریات اور رسوم و عبادات کے احترام کا دائرہ کار واضح اور مشخص کیا گیا ۔

یہ دن قطعاً کسی ایک مسلک کی دوسرے مسلک کے خلاف محاذ آرائی نہیں تھی بلکہ اس وقت اسلا مائزیشن کے جاری عمل میں وسعت نظری اختیار کرنے اور آئین کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا

جبکہ تمام فقہوں کو مدنظر رکھ کر سب کے حقوق کی پاسداری کی طرف توجہ دلانا بھی مقصود تھا لیکن بدقسمتی سے ملک کی پالیسی سازی کے مراکز پر حاوی کوتاہ نظروں نے اس طرف توجہ نہ دی اور غلط رپورٹوں کا سہارا لے کر زور آوری اختیار کی-

علامہ ساجد نقوی  نے کہا ہے کہ 6 جولائی 1980 کے کنونشن میں عوام نے مطالبہ کیا کہ اسلامائزیشن کے عمل میں تمام مکاتب فکر کے عقائد ونظریات کا احترام اور ان کے شہری و مذہبی حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں مذہبی و شہری آزادیاں دی جائیں۔

اس مقصد کے لیے عوام نے سیکرٹریٹ کا محاصرہ کیا اس پس منظر سے واضح ہے کہ یوم نفاذ فقہ جعفریہ فرقہ واریت کی نفی کا دن ہے او راس تاریخی دن بہت سے حقائق منظرعام پر آئے اور عوام کو ان کے ہمہ نوع حقوق کے حصول کا شعور ملا کیونکہ اسلامائزیشن کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے عوام نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں آئین کے تقاضوں کے مطابق شہری،مذہبی اور آئینی حقوق فراہم کئے جائیں اور قرآن وسنت اورآئین کو کسی ایک تشریح کا پابند نہ کیا جائے تاکہ اسلام کی مختلف تعبیروں سے استفادہ کرتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست بنایا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی حقوق کے حصول کی جس جدوجہدکا آغاز 32 سال قبل کیا گیا تھا وہ اب بھی جاری ہے لیکن اب تک اس جدوجہد کے حقائق اور اصل مقاصدکا ادراک نہیں کیا گیابلکہ فرقہ پرست قوتوں کو پہلے مرحلے میں شہہ دی گئی کہ وہ پہلے پاکستان کو بدترین فرقہ واریت کی آماجگاہ بنائیں اور پھر دوسرے مرحلے میں اس فرقہ واریت کو تشدد اور دہشت گردی میں بدل دیں تاکہ شیعہ عوام کے حقوق غصب کئے جا سکیں اور انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا جا سکے چنانچہ ملک کی داخلی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے کے اس منصوبے پر تسلسل سے عملدرآمد کے ذریعہ دہشت گردی‘ ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارتگری کا خونی کھیل جاری ہے ۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اس تمام صورت حال کے باوجود ہم نے اتحاد بین المسلمین اور وحدت امت کے لئے کوششیں جاری رکھیں اورعملی طور پر اتحاد کے لیے بننے والے تمام فورموں اور پلیٹ فارموں میں شریک رہے۔

اب بھی حالات اور اتحاد کا تقاضاہے کہ آئین پاکستان میں تمام مکاتب فکر کو دئیے گئے ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کیا جائے اور ایک دوسرے کے نظریات اور رسوم و عبادات پر اعتراض یا پابندی لگانے کی سوچ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام کی راہ ہموار ہوسکے اور لوگوں کی مشکلات دور ہوسکیں۔ .......

/169