9 جولائی 2012 - 19:30

يورپ کے وزرائے خزانہ نے برسلز اجلاس ميں رکن ملکوں کي اقتصادي مشکلات کا جائزہ ليا - اس اجلاس ميں خاص طور پر اسپين کے اقتصادي بحران پر گفتگو ہوئي اور اس کو ديواليہ ہونے سے بچانے کے لئے قرض دينے پر اتفاق کيا گيا -

ابنا: يورپي يونين کے ترجمان سموئن کانر نے اس اجلاس کے آغاز ميں کہا کہ اگرچہ يورو زون کے سترہ رکن ملکوں نے اسپين کو قرضے دينے پر اتفاق کرليا ہے ليکن جب تک يورپي بينک اس سلسلے ميں اپني رپورٹ نہيں دے ديتا کہ اسپين کو کتنے قرضوں کي ضرورت ہے اس وقت تک  قرضوں کي رقم مختص نہيں ہوسکتي سموئن کانر نے کہا کہ يورپي بينک اس سلسلے ميں اپني رپورٹ ستمبر کے مہينے ميں پيش کرے گا -

      يورپي يونين کے وزرائے خ‍زانہ کوشش کررہے ہيں کہ رکن ملکوں کو ديئے جانےوالے قرضوں کي شرائط کے بار ے ميں کسي مشترکہ اتفاق رائے پر پہنچ جائيں- يورپي يونين کے وزرائے خزانہ کہ جن ميں سے بعض ايسے بھي ہيں کہ جو يورپي يونين کے منظور شدہ بل کي دوبارہ منظوري کے لئے اپنے ملکوں کي پارليمانوں ميں لے جائيں گے ،  جولائي کے آخر ميں کسي حتمي نتيجے پر پہنچنے کے لئے ايک بار پھر ملاقات کريں گے -

    يہ ايسي حالت ميں ہے کہ تازہ ترين رپورٹوں ميں کہا گيا ہے کہ يورو زون کے وزرائے خزانہ نے اس بات پر اتفاق کيا ہے کہ جولائي کے اختتام تک اسپين کو مالي امداد کا پہلا پيکج جو تيس ارب يورو پر مشتمل ہے ادا کرديں گے تاکہ اسپين کے بينکوں کي مدد ہوسکے جنھيں سخت مالي بحران کا سامنا ہے –

يورو زون کے سربراہ جان کلوڈ يونکر نے کہا کہ يورو زون کے سترہ ملکوں کے وزرائے خزانہ نے نو گھنٹے طويل مذاکرات کے بعد اسپين کو امداد دينے کے طريقے اور امدادي رقم پر اتفاق کيا-  يونکر نے کہا کہ اس سمجھوتے کے مطابق اسپين کو آئندہ پندرہ برسوں ميں يہ رقم واپس لوٹانا ہوگي –

يورو زون کے سربراہ نے کہا کہ يورو زون کے وزرائے خزانہ نے اسي طرح اس بات پر بھي اتفاق کيا کہ دو ہزار چودہ کے اختتام تک اسپين کو يہ موقع ديا جائے کہ وہ اپنے بجٹ خسارے کو کم کرے  -

    بعض رپورٹوں ميں کہا گيا ہے اسپين کي حکومت آئندہ ہفتے زيادہ سخت معاشي کفايت شعاري کي پاليسي کا اعلان کرنےوالي ہے-

اس سلسلے ميں اسپين کے وزير خزانہ  نے کہا ہے کہ حکومت جلد ہي ٹيکسوں ميں اضافے کا اعلان کرنےوالي ہے –

دوسري طرف يورپي يونين اور يورو زون کا کہنا ہے کہ جن ممبر ملکوں کو معاشي بحران کا سامنا ہے انہيں چاہئے کہ وہ جلد سے جلد معاشي کفايت شعاري کي پاليسي پر عمل کريں-  

  اس ميں شک نہيں کہ اسپين کي ابتر معاشي صورتحال نے يورپي يونين اور بين الاقوامي مالياتي فنڈ دونوں کو سخت تشويش ميں مبتلا کررکھا ہے کيونکہ اسپين کي معيشت يورپي يونين کے ان تين ملکوں يعني يونان پرتگال اور آئرلينڈ کي معيشت سے جن کے لئے يورپي يونين نے اقتصادي پيکج کا اعلان کيا تھا تين گنازيادہ ہے-.......

/169