ابنا: سرکردہ شيعہ رہنما آيت اللہ نمر باقر النمر کي گرفتاري کے خلاف سعودي عرب ميں مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے اور ملک کے مشرقي علاقوں العواميہ اور القطيف ميں زبردست احتجاج کي اطلاعات موصول ہورہي ہيں-
موصولہ خبروں کے مطابق سعودي سيکورٹي فورس کے ہاتھوں آيت اللہ نمر باقر النمر پر قاتلانہ حملے اور بعد ازاں انکي زخمي حالت ميں گرفتاري سے مشرقي علاقوں کے عوام ميں شاہي حکومت کے خلاف نفرت اور غم و غصے ميں زبردست اضافہ ہوگيا ہے-
سعودي سيکورٹي فورس کے وحشيانہ سلوک کے خلاف لوگ مسلسل سڑکوں پر آرہے ہيں اور انکي رہائي کا مطالبہ شدت اخيتار کرتا جارہا ہے-
مظاہرين مشرقي صوبے الشرقيہ کے گورنر محمد بن فہد کي برطرفي کا بھي مطالبہ کر رہے ہيں-سيکورٹي اہلکاروں نے اتوار کي شب آيت اللہ نمر باقر النمر کي گاڑي پر گولياں چلادي تھيں اور انہيں زخمي حالت ميں گرفتار کر کے لے گئے تھے-
آيت اللہ نمر کي گرفتاري کے بعد سے قطيف شہر ميں زبردست کشيدگي پائي جاتي ہے اور صورتحال سيکورٹي اہلکاروں کے کنٹرول سے باہر ہوتي جارہي ہے- سعودي سيکورٹي اہلکاروں نے آيت اللہ نمر کي گرفتاري کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے والوں پر براہ راست گولياں چلا دي تھيں جس کے نتيجے ميں تين افراد شہيد اور درجنوں زخمي ہوگئے تھے-
دوسري جانب سعودي عرب کي انساني حقوق کيمٹي نے شاہي حکومت کي جانب سے انجام پانے واالے جرائم کي سنگيني پر سخت تشويش کا اظہار کيا ہے-
انساني حقوق کميٹي کے جاري کردہ بيان ميں حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کي مذمت کرتے ہوئے عالمي ريڈ کراس سوسائٹي سے فوري مداخلت کي اپيل کي گئي ہے –
بيان ميں کہا گيا ہے کہ آيت اللہ نمر کي صحت و سلامتي کے بارے ميں اطمينان حاصل کرنے کے لئے عالمي ريڈکراس سوسائٹي کو آگے آنا چاہيے-
.......
/169