ابنا: مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے گذشتہ شب حرم امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کو خطاب میں یہ کہتے ہوئے کہ امام زمانہ (عج) جھلستے صحرا میں اب حیات کے مانند ہیں بیان کیا : جیسا کہ ھم دنیا میں شاھد ہیں کہ انسانی معاشرہ عدالت کے بغیر جھلستے صحرا کی طرح ہے ، سامراجیت وآمریت عدالت کے نام پر ظلم کررہے ہیں ۔
انہوں نے انسانی حقوق کے معیاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا : امریکا اور عالمی سامراجیت معتقد ہیں کہ جو کوئی بھی ان کے ساتھ ہو وہ صلح پسند ہے اور جو کوئی بھی ان کے ساتھ نہ ہو وہ دھشت گرد ہے اور وہ صفحہ ھستی سے مٹ جانے کا مستحق ہے ، مگر سعودیہ جیسی حکومتیں جو ائین جمھوریت کے مطابق نہیں اور ان کے یہاں الیکشن و پارلیمنٹ بھی موجود نہیں ہے عالمی سامراجیت کے مورد حمایت ٹھہرے ہیں ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے روشن طورسے کہا : بعض ایات قران کریم ڈائرکٹ یا اِن ڈائرکٹ ظھور امام عصر ارواحنا فداہ اور اسلام کے عام ہونے پر دلالت کرتی ہیں ؛ من جملہ ان ایات میں سے سوره انبیا کی 15 ویں ایت ، سوره قصص کی پانچویں ایت ، سوره توبہ کی 23 ویں ایت میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ نہایتا زمین پر صالحین خدا کا قبضہ ہوگا ۔
اس مرجع تقلید نے مزید کہا : معصومین علیھم السلام نے بعض ایات کریمہ کی تفسیر میں قیام منجی موعود کی جانب اشارہ کیا ہے ۔ جیسے سورہ ملک کی ایت 30 میں ، اگرچہ ان ایات میں بظاھر توحید پرودگار کی گفتگو کی گئی ہے مگر باطنی طور پر ولایت وقیام امام زمانہ (عج) کی جانب اشارہ ہے اور وہ یہ کہ اگر انسانی معاشرہ کا اب حیات ، معصوم ھماری نظروں سے اوجھل ہوجائے تو کون ھمیں خیرت وبرکت عنایت کرے گا ۔
انہوں نے کہا : متوجہ رہیں کہ پیدوار اورابادی میں فقط پانی کافی نہیں ہے بلکہ زمین بھی تیار ہونی چاھئے اور بیج بونا بھی بہت ضروری ہے ، انسانی اخلاق کی بیج دل و روح کی زمین میں بوکر روح وجان کو درپیش مصیبتوں سے نجات دی جاتی ہے ۔
حضرت آیتالله مکارم شیرازی نے بیان کیا : امام عصر علیہ السلام کی یاد میں محفلوں اور دعاوں کا انعقاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں ہے ھم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی ، اپنے گھرانے اور اپنے معاشرے میں اصلاح کے پودے اگائیں تاکہ ظھور امام عصر(عج) اور اب حیات کے انے کے ساتھ ساتھ یہ پودے پھل دے سکیں ۔.....
/169