7 جولائی 2012 - 19:30

علامہ سید ساجد علی نقوی نے سانحہ تربت کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کے انسانیت سوز واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد انسان نہیں بلکہ انسانیت دشمن درندے ہیں ، سپریم کورٹ آف پاکستان رول آف لاء کیلئے چیخ و پکار کررہی ہے مگر آئے روز دہشت گردی کی واقعات سے لگتا ہے کہ آئین و قانون نام کی کوئی چیزملک میں موجود نہیں ۔

ابنا: ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز تربت سے ایران جانے والی بس پر دہشت گردی کے حملے کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کیا جس میں لوگوں کوبس سے اتارکر ٹارگٹ کیاگیا۔

انہوں نے کہاکہ آئے روز اس طرح کی کارروائیوں سے لگتا ہے کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں اور ملک کوان سفاک قاتلوں و انسانیت دشمن درندوں کے حوالے کردیاگیاہے۔

انہوں نے کہاکہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ قانون، آئین کی عملداری کیلئے آئے روز چیخ رہی ہے انہوں نے کہاکہ دہشت گردی نے ملک کی داخلی سلامتی کو کھلے عام دائو پر لگا دیاہے اورملک میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کردیاگیاہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ان حالات سے ایسا لگتاہے کہ جیسے ملک میں آئین و قانون یا ریاست نام کی کوئی چیز نہیں ۔ ایسے موقع پر سول سوسائٹی کے دانشوروں اورسنجیدہ افراد کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور سوچنا ہوگا کہ آخر کب تک اس ملک میں ظلم و بربریت کابازار گرم رہے گا اور بے گناہ افراد لقمہ اجل بنتے رہیںگے اور ان سفاک قاتلوں سے ملک کے عوام کو کب چھٹکارا ملے گا۔

دوسری جانب علامہ عارف حسین واحدی و دیگر علمائے کرام نے بھی اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور جو حکومت عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرسکتی اس کو اقتدار میں رہنے کا بھی کوئی حق حاصل نہیں ہے۔.......

/169