ابنا: مقامي ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ يہ حملہ جمعے کي شام تربت کے نواحي علاقے کھنڈان ميں کيا گيا-
کہا جارہا ہے مسلح دہشتگرد موٹر سائيکلوں پر سوار تھے اور انہوں نے بس روکنے کے بعد اس پر فائرنگ کردي-
رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ بس ميں سوار مسافر کام کي تلاش ميں ایران کے راستے ترکي جانا چاہتے تھے- اس سے قبل آمدہ خبروں ميں کہا گيا تھا کہ بس شيعہ زائرين کو ليکر ايران آرہي تھي-
تاحال کسي گروپ نے اس حملے کي ذمہ داري قبول نہيں کي ہے- اس سے قبل بھي ايک ايسے ہی واقعے ميں مسلح دہشتگردوں نے زائرين کي بس پر حملہ کرکے بيس شيعہ مسلمانوں کو شہيد کرديا تھا-
پاکستان کے صدر آصف علي زرداري اور وزيراعظم راجہ پرويز اشرف نے واقعے کي مذمت کرتے ہوئے اس کي فوري تحقيقات کا حکم ديا ہے-.......
/169