30 جون 2012 - 19:30

مقبوضہ فلسطین میں تعمیراتی عمل تیز تر ہوجانے کے بعد فلسطین کی خود مختار انتظامیہ نے فلسطینی اراضی میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کے عمل کا جائزہ لینے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے ۔

ابنا: اس سلسلے میں پی ایل او کے سکریٹری یاسر عبد ربہ نے رام اللہ میں محمود عباس کی زیر قیادت پی ایل او کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ فلسطینی اراضی میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کے عمل کا جائزہ لینے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ حالیہ دنوں کے دوران صیہونی حکومت کی کابینہ نے مشرقی بیت المقدس میں 171 نئے مکانات تعمیر کئے جانے کی منظوری دی ہے اور یہ مکانات بیسگات زئیف اور ابوغنیم کے علاقوں میں تعمیر کئے جائیں گے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صیہونی حکومت، صیہونی کالونیوں کو قلب بیت المقدس تک پھیلانے کی کوشش کررہی ہے ۔ بیت المقدس اور غرب اردن پر قبضے کے چار عشروں کے دوران ان علاقوں میں درجنوں صیہونی کالونیاں تعمیر کی جاچکی ہیں اور اب صیہونی حکام ان بستیوں کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس قسم کے منصوبوں کا مقصد، فلسطینی اراضی میں فلسطینیوں کی آبادی کے بجائے صیہونی آبادی دکھانا اور ان بستیوں کو خالی کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے فیصلے کو ناکارہ بنانا ہے ۔ سنہ 1967 سے جب سے بیت المقدس اور غرب اردن پر صیہونی فوج نے قبضہ کیا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینی اراضی میں صیہونی حکومت کی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف دسیوں قراردادیں جاری کی ہیں جن میں صیہونی حکومت سے فلسطینیوں کے حقوق کی رعایت اور مقبوضہ علاقوں سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس غاصبانہ قبضے کے بعد سے کوئی سال ایسا نہیں گذرا ہے کہ جس میں اقوام متحدہ نے اسرائیل کے خلاف کوئی فیصلہ نہ کیا ہو ۔ اس رو سے حالیہ چار عشروں میں اسرائیل کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فیصلوں نیز بین الاقوامی قوانین کی ریکارڈ توڑ خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا جاسکتا ہے کہ جس نے ہمیشہ اپنے فوجیوں کے ذریعے فلسطینیوں کے حقوق کو پیروں تلے روندا ہے ۔ صیہونی بستیوں کی تعمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فیصلوں نیز جنیوا کے چوتھے کنوینشن کی بنیاد پر غیر قانونی اور مقبوضہ سرزمین کی قوم کے حقوق نظر انداز کئے جانے کے مترادف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی خود مختار انتظامیہ نے ایکبار پھراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ کونسل، بیت المقدس اور غرب اردن میں صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے بارے میں کوئی چارہ جوئی کرے ۔ اگر چہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ بھی بے قصور نہیں ہے کہ جس نے حالیہ چار عشروں کے دوران اسرائیل کے خلاف اپنے فیصلوں اور قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے کبھی کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا اور ہمیشہ خاموشی اختیار کئے رکھی....... /169