ابنا: بنیامین نیتن یاہو نے صہیونی فوج کے کمانڈروں کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد غزہ پٹی پر حملوں میں شدت پیدا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بنیامین نیتن یاہو نے غزہ پٹی پر حملوں میں شدت کا حکم ایسی حالت میں دیا ہے کہ جب غزہ پر صہیونی ریاست کے حالیہ حملوں کے دوران تین بچوں سمیت سترہ فلسطینی شہید اور ستّر سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں سترہ بچے بھی شامل ہیں۔
غزہ پٹی پر
صہیونی ریاست کے حملوں کے نۓ مرحلے سے قدس کی قابض حکومت کی جارحانہ ماہیت ایک بار پھر نمایاں ہوگئي ہے۔ ان امور سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ
صہیونی ریاست کی بنیاد ہی تشدد ، قتل عام اور سرکوبی پر استوار ہے۔
صہیونی ریاست اپنے مظالم کے سلسلے میں کسی بھی حد کی قائل نہیں ہے۔ یہ حکومت اپنے تشدد کے ہر نۓ مرحلے میں دسیوں فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔
صہیونی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ کۓ جانے والے جنگ بندی کے اپنے متعدد معاہدوں کی رو سے فلسطینی علاقوں پر حملے نہ کرنے کی پابند ہے۔ لیکن ان تمام معاہدوں کے باوجود فلسطینی علاقوں پر صیہونی حکومت کے حملوں میں نہ صرف کوئي کمی نہیں آئي ہے بلکہ عملی طور پر ان حملوں میں شدت ہی پیدا ہوئي ہے۔
صہیونی ریاست کے جنگ پسندانہ اور مہم جوئي پر مبنی اقدامات سے بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ حکومت امن کے عمل کی پابند نہیں ہے۔
مذکورہ امور کے پیش نظر اس بات میں کوئي شک باقی نہیں رہ گیا ہے کہ صیہونی حکومت توسیع پسندی اور اپنے تسلط کے استحکام کے سوا کسی اور چیز کے بارے میں سوچتی تک نہیں ہے اور اس حکومت کے امن پر مبنی دعوے حقیقت سے عاری اور خطے میں اپنے مظالم اور جرائم کا چھپانے کا حربہ ہیں۔
صہیونی ریاست کے مظالم اور جرائم اگرچہ فلسطینیوں کے لۓ بہت زیادہ مشکلات کا سبب بنے ہیں لیکن وہ فلسطینیوں کے ارادے کو متزلزل نہیں کر سکے ہیں۔ فلسطینیوں نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لۓ صیہونی حکومت کے مقابلے میں بدستور ڈٹے رہیں گے۔
ان حالات میں رائے عامہ کی توقع یہ ہے کہ عالمی ادارے خاص کر اقوام متحدہ کا ادارہ قدس کی غاصب حکومت کے خلاف ٹھوس اقدامات انجام دے کر فلسطین کی مظلوم ملت کی مدد کرے اور اس المناک صورتحال کو ختم کرے جس کے ساتھ صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کو دوچار کر رکھا ہے۔
.......
/169