ابنا: دہشتگردوں نے جلوس بمناسبت عاشورہ کراچی کو ایم جناح روڈ پر نشانہ بنایا، جس مقام پر دہشتگردوں نے جلوس کو نشانہ بنایا اُس جگہ پہلے غیر حکومتی(شیعہ زمہ داران) پھر حکومتی عہدیداروں کی طرف سے شہدائے عاشورہ کی یادگار بناتے کا اعلان کیا گیاجس کے بعد اُس وقت کے ناظم کراچی نے اپنے نام سے ایک تختی آویزاں کردی۔ مگر یادگار تعمیر نا ہوئی، 2 سال آٹھ مہینے گزرنے کے بوجود بھی آج تک وہاں صرف نام والی تختی ہی لگی ہے، 46 عزادروں کے نام والی یادگار آج بھی نا بن سکی،
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب وہاں اُسی جگہ جہاں یادگار بنائی جانی تھی جوتے فروخت ہوتے ہیں۔ بلکہ کیوں نا اس کو یوں کہا جائے کہ اب وہاں ایسا لگتا ہے کہ جوتے نہیں بلکہ ہماری زمہ داریاں ، ہماری غیرت، ہمارے جذبات، ہمارے اوپر شہیدوں کی زمہ داریاں فروخت ہوتی ہیں۔ چند چھوٹے موٹے زمہ داروں کو آگاہ یا پھر یوں کہا جائے کہ شور مچانے کے بعد اب اُس جگہ جوتے فروخت ہونا تو بند ہوگئے مگر یادگاہ اب بھی نا بنی، مسئلہ جوتے فروخت ہونے کا نہیں بلکہ ہم پے طاری گہری نیند کا ہےکیا گارنٹی ہے کہ اب وہاں کوئی جوتے فروخت نہیں کریگا؟ اور کیا گارنٹی ہے کہ ان بھی 2 سال 8 مہینے بعد اعلان کردہ یادگار تعمیر ہوجائے گی؟
نوٹ: ادارہ(شیعہ کلنگ) کی طرف سے اس خبر کو لگانے کا مقصد کسی پر تنقید کرنا نہیں بلکہ تمام ملت تشیعُ کے زمہ داروں، ماتمی سنگت کے خادمین، تنظیمی عہدیداروں، بلخصوص شیعہ اداروں کے افسران اور ہر عام شیعہ جو سب سے زیادہ بیدار ہے، ان تمام افراد کی توجہ اس اہم مسئلے پر مبزول کروانی تھی۔.......
/169