ابنا:
واشنگٹن (جنگ نيوز) امريکي جريدے ”فارن پاليسي“ کي جانب سے دنيا کي ناکام رياستوں کي فہرست جاري کي گئي ہے جس ميں پاکستان کو 13ويں نمبر پر رکھا گيا ہے۔ جريدے نے جن معيارات کے تحت يہ فہرست تيار کي ہے ان ميں معاشرتي دباؤ، پناہ گزينوں اور بے گھر افراد کي بڑھتي تعداد، عوام کے مختلف گروہوں ميں شکايت کا بڑھتا عنصر، بڑے پيمانے پر ذہين لوگوں کي ہجرت، غير مستقل ترقي، معاشي زوال، رياست ميں قانون کي عملداري کا فقدان، سرکاري ملازمتيں، حقوق انساني کي پامالي، اسلحہ کا استعمال، اشرافيہ کي گروپ بندي اور بيروني مداخلت شامل ہيں۔ 12/ معيارات ميں سے ہر ايک کے 10/ نمبر رکھے گئے ہيں اور مجموعي اسکور 120/ پوائنٹس رکھا گيا ہے جس کے تحت صوماليہ کو 114.9/ پوائنٹس کے ساتھ پہلي ناکام رياست دکھايا گيا ہے۔ دوسرے نمبر پر جمہوريہ کانگو، اس کے بعد سوڈان، چاڈ، زمبابوے، افغانستان، ہيٹي، يمن، عراق، سينٹرل افريقن ري پبلک، آئيوري کوسٹ، گني اور پھر 13ويں نمبر پر 101.6/ پوائنٹس کے ساتھ پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ مأخوذ از جنگ ڈاٹ نیٹ ڈاٹ اردو........اس رپورٹ میں امریکہ کی معاشی ناکامی اور یورپ کی مشابہ صورت حال کو ناکامی سے تعبیر نہیں کيا گیا ہے اور رپورٹ بھی امریکہ نے شائع کی ہے لیکن کوئی ہے جو امریکہ سے پوچھے کہ پاکستان کی اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا امریکہ ہی نے پاکستانیوں کو یہ دن نہيں دکھائے؟ کیا پاکستان میں دہشت گردی کا بازار کسی اور نے گرم کروایا ہے؟ کیا پاکستان میں دہشت گردوں کی کاروائیوں کا فائدہ امریکہ کے سوا کسی اور کو پہنچتا ہے؟ کیا بلیک واٹر کا تعلق کسی اور ملک سے ہے؟ کیا القاعدہ اور طالبان کسی اور نے بنائی اور کیا القاعدہ ملک شام یمن و عراق سے لے کر پاکستان تک امریکہ کے سوا کسی اور ملک کے مفاد میں دہشت گردی کی کاروائی کررہے ہيں؟
۔۔۔۔۔۔
/110