18 جون 2012 - 19:30

علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی پالیسیاں غربت اور عوامی مسائل کے خاتمے کی بجائے غریب مکاؤ مہم کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ توانائی کے بحران نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، جس کے باعث جہاں صنعتوں کا پیہہ جام ہونے سے غریب کا چولھا بجھ گیا ہے، وہاں پانی اور بجلی کی عدم دستیابی نے عوامی مشکلات میں اضافے کرتے ہوئے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بجلی کا شارٹ فال تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، لیکن صوبائی حکومتیں ہوں یا مرکزی، حکومت الزامات کی سیاست کرتے ہوئے سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔ سیاستدان اس بحرانی کیفیت کا ذمہ دار یا تو ماضی کے حکمرانوں کو قرار دیتی ہیں یا پھر ایک دوسرے پر الزام تراشی کر کے اپنی نااہلی کو چھپا رہی ہیں۔ کسی کی توجہ بھی اس بحران کے خاتمے پر مرکوز نہیں ہے، ہر دو کی باہمی چپقلش کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں اس کے لئے رقم تو مختص کی جاتی ہے، لیکن بحران ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، بلکہ ہر آنے والے سال میں شارٹ فال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکمرانوں کی پالیسیاں غربت اور عوامی مسائل کے خاتمے کی بجائے غریب مکاؤ مہم کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والی قوتوں کو شائد اس کا ادراک نہیں کہ عوام کا اعتبار جمہوریت سے اٹھتا جا رہا ہے اور اگر بحرانوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا تو ملک میں انارکی پھیلے گی، جس کا نتیجہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومتوں کی پہلی ترجیح عام آدمی کے مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر خاتمہ ہوتا ہے، جبکہ وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ یہاں حکمران مسائل کے خاتمے کی بجائے ان میں اضافہ کرنے کا باعث بن رہے ہیں اور انہیں اگر فکر ہے تو صرف کرسی و اقتدار کو مضبوط بنانے کی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

.......

/169