13 جون 2012 - 19:30

روس کے وزیر خارجہ سرگئي لاوروف نے تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات میں خطے کی تازہ صورتحال اور ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس پر تبادلۂ خیالات کیا۔

ابنا: سرگئي لاوروف کے دورۂ تہران سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے صدور نے چین میں شنگھائي تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر آپس میں ملاقات کی تھی۔ روسی وزیر خارجہ سرگئي لاوروف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی سے ملاقات میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ شام کے بحران کا حل ڈھونڈنے کا انحصار شام سے متعلق ماسکو کے مجوزہ اجلاس میں تمام موثر ممالک خصوصا اسلامی جمہوریہ ایران کی شرکت پر ہے۔

روس گروپ پانچ جمع ایک میں بھی شامل ہے۔ اور آئندہ ہفتے اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے مذاکرات روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہوں گے۔

ان مذاکرات کانیا مرحلہ گزشتہ اپریل کو استبول مذاکرات کے ساتھ شروع ہوا تھا جو بغداد مذاکرات کی صورت میں جاری رہا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس مرحلے میں ایٹمی معاملے سمیت باہمی تعاون کے لۓ جامع تجاویز پیش کی ہیں۔ روس بھی مثبت رویے کے ساتھ امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنےکے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ سرگئي لاوروف نے اپنے دورۂ تہران سے قبل کہا تھا کہ تہران گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں سنجیدہ ہے ۔ روسی وزیر خارجہ کے یہ بیانات درحقیقت ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ کے انہی بیانات کی تصدیق ہے جو انھوں نے بی بی سی کے ہارڈ ٹاک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دیۓ تھے۔ علی اصغر سلطانیہ نے اس انٹرویو میں کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عالمی برادری کویہ باور کرانے کے سلسلے میں پوری طرح سنجیدہ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کے لۓ نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران ماسکو کی جانب سے پیش کی جانے والی ان تمام تجاویز کا خیر مقدم کرتا ہے جن سے اجتماعی مفادات حاصل ہوتے ہوں اور وہ ایٹمی موضوع کے سلسلے میں ایران کے حقوق کے منافی بھی نہ ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ ایران علاقائی مسائل کے سلسلے میں خطے میں قیام امن کے مقصد سے شام کے بحران کے خاتمے کےلۓ بین الاقوامی اجلاس کے انعقاد ،دہشتگردانہ کارروائیوں کے مقابلے ، شام میں غیر ملکی مداخلت کی روک تھام اور شام کے عوام تک انسان دوستی پر مبنی امداد بھیجنے کو مثبت جانتا ہے۔

مجموعی طور پر سرگئي لاوروف کے دورۂ تہران سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ماسکو اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائي اور عالمی مقام کا درست ادراک رکھتا ہے۔ شام اور افغانستان سمیت خطے کےاہم مسائل اور ایٹمی معاملے کےبارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے ساتھ روسی وزیر خارجہ کے مذاکرات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ماسکو اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف کو اہم جانتا ہے اور یہی وہ امر ہے جو باہمی تعاون اور حقیقت پسندی کے ساتھ مسائل کے ادراک کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ .......

/169