اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی روزنامے انڈیپنڈنٹ کے رپورٹر پیٹرک کاکبرن (Patrick Cockburn) اپنے روزنامے کے "مڈل ایسٹ پیج" میں ایک رپورٹ میں ایک بحرینی بچے کی گرفتاری اور عدالت میں لائے جانے کے موضوع کا جائزہ لیا ہے۔کاکبرن نے لکھا: بحرینی حکام گیارہ سالہ بچے پر مقدمہ چلارہے ہیں اور اس کا جرم یہ ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سڑک پر کھیلا تھا!۔ لکھتے ہیں: اا سالہ بچے پر غیر قانونی اجتماع میں شرکت کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے؛ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس بچے کو بحرینی بچوں پر بحرینی حکام کے حملے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ کاکبرن نے لکھا: گیارہ سالہ بحرینی بچے "علی حسن" کا کہنا ہے کہ وہ سڑک پر اپنے ہم عمر بچـوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ سفید کپڑوں میں ملبوس پولیس والے آن پہنچے اور اس کو ایک گاڑی پر سوار کیا اور باقی دو بچے بھاگنے میں کامیاب ہوئے لیکن پولیس والوں نے اس کو دھمکی دی کہ اگر وہ بھاگ جائے تو وہ اس کو گولی کا نشانہ بنائیں گے۔

بحرینی بچے کے وکیل "شہزلان خمیس" نے پیٹرک کاکبرن کو بتایا کہ ان کے ننھے موکل کو غیرقانونی اجتماع میں شرکت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔۔۔ بحرین میں پانچ افراد سے زیادہ کا اجتماع غیر قانوی قرار دیا گیا ہے۔ نیز خمیس نے بتایا کہ ان کے موکل کو کوڑے دانوں کے ذریعے سڑک بند کرنے کا بھی الزام ہے جبکہ کوڑے دان بہت بھاری ہیں اور اس بچے میں انہیں ہلانے تک کی قوت بھی نہيں ہے اور دھات کے ایک کوڑے دان کو اٹھانے کے لئے دو بالغ مردوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کاکبرن نے لکھا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی اور آل خلیفہ کی طرف سے ہر قسم کی تبدیلی اور اصلاح سے انکار اور عوام خاص طور پر شیعہ آبادی کو کچلنے کی وجہ سے اس خاندان کے حامی امریکی اور برطانوی بھی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ انھوں نے لکھا: بحرین میں پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی کی بنا پر اس ملک میں انسانی حقوق کی پامالی پر مجرمانہ خاموشی واضح منافقت ہے جس کی بنیاد امریکہ اور برطانیہ کے مفادات ہیں۔ کاکبرن نے لکھا ہے کہ علی حسن کل پیر کے روز رہا ہوگیا لیکن وہ اب اگلی سماعت کا انتظار کررہا ہے جو اس مہینے کے آخر تک ملتوی کی گئی ہے۔ وہ 14 مئی کو دارالحکومت منامہ کے ایک قدیمی محلے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ پیٹرک کاکبرن لکھتے ہیں: علی حسن کے وکیل شہزلان خمیس نے مجھے بتایا: علی حسن کو گرفتار کرنے کے بعد متعدد پولیس سینٹرز لے جایا گیا تا کہ اس کو خوفزدہ کیا جاسکے اور ان منتقلیوں کے بعد اس سے تفتیش کی گئی ہے اور اس سے کہا گیا ہے کہ اپنے محلے کے بچوں کے نام پتے بتائے! ... علی حسن بہت پریشان ہے اور کہتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں اپنی ماں کے پاس لوٹنا چاہتا ہے؛ وہ بہت خوفزدہ ہے اور کہتا ہے کہ آل خلیفہ کے فوجی اس کو سزا دیں گے ... علی حسن ایک تنہا اور اپنوں کی معیت سے محروم بچہ ہے۔کاکبرن لکھتے ہیں: بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے بحرینی بچوں کے خلاف اس طرح کی اقدامات سے تشویش ظاہر کی ہے اور اس مرکز کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ حکومت نے ساٹھ بچوں کو قید کرلیا ہے جن میں سے 15 کو قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ خمیس نے کاکبرن کو بتایا کہ وہ ان سات اور آٹھ سالہ بچوں کی فائلوں کی پیروی کررہا ہے جن سے پولیس نے پوچھ گچھ کی ہے لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ بحرین میں چودہ اور پندرہ سالہ بچوں کی گرفتار آل خلیفہ حکومت کے نزدیک معمول کا کام ہے۔ کاکبرن کے مطابق، عالمی ذرائع ابلاغ میں اس بچے پر مقدمہ چلائے جانے کی رسوائی کی وجہ سے گیارہ جون 2012 کو خلیفی حکومت نے اس بچے کو رہا کردیا ہے تا کہ اگلی سماعت تک اپنے گھروالوں کے پاس رہے!۔واضح رہے کہ آل خلیفہ حکومت نے 14 فروری 2011 کو بحرین میں عوامی انقلاب کے آغاز سے لے کر درجنوں بچوں کو گرفتار کیا ہے اور بعض مواقع پر ان سے اپنی مرضی کے اعترافات لینے کی غرض سے انہيں ٹارچر اور جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور آج تک دسیوں بچے خلیفیوں کے حملوں میں شہید یا زخمی ہوگئے ہیں۔ گویا آل خلیفہ حکومت بھی بحرینی بچوں کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑرہی ہے جس طرح کہ مقبوضہ اسلامی سرزمین میں صہیونی ریاست فلسطینی بچوں کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑ رہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110