10 جون 2012 - 19:30

علامہ سید ساجد علی نقوی اور شیعہ علماء کونسل پاکستان خیبرپختونخواہ کے صوبائی سربراہ علامہ محمد رمضان توقیرنے پشاور کے علاقے گل بیلہ میں سول سیکرٹریٹ کی گاڑی پر بم دھماکے کے نتیجے میں سرکاری ملازمین کی شہادت پر گہرے غم وغصہ کا اظہارکرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حکومت انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بم دھماکہ کے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین کی ممکنہ امداد کی جائے اور زخمی اہلکاروں کو طبعی علاج و معالجہ کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔

ابنا: ایک مذمتی بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ کہ پشاور کے علاقے گل بیلہ میں ہونے والا بم دھماکہ انتظامیہ کی لاپرواہی اور سستی وکاہلی کا نتیجہ ہے حکومت لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے دہشت گردی روکنے  بارے انتظامیہ کی لیت لال سے کام لینا عوام کیلئے وبال جان بن چکاہے، 

دہشت گردی وبم دھماکوں کے خوف وحراس سے عوام گھروں تک محدود رہ کرنفسیاتی مریض بن چکے ہیں،اس گونگی بہری حکومت کے پانچ سالہ دور میںعوام کو کمرتوڑ مہنگائی کیساتھ ساتھ ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں جیسے افسوس ناک واقعات دیکھنے کو ملے،

انہوں نے کہاکہ حکمران اقتدار و دولت کی جنگ میں مصروف ومگن ہیں جبکہ عدلیہ و حکومتی ادارے آپس میں چوہے بلی کا کھیل کھیل رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے وطن عزیز کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کردیا ہے ،وطن عزیز کے اندر امریکی حساس ادارہ سی۔آئی۔اے کی دفاتر بند کئے بغیر دہشت گردی پر قابو نہیں پایاجاسکتا۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے حکومت و انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو ٹیسٹ کیس بناکر کے پس پردہ خونی بھیڑیوں کو بے نقاب کرکے مثالی سزا دی جائے۔....... /169