6 جون 2012 - 19:30

حکومت مخالفين کي بڑي تعداد نے سعودي عرب کے دارالحکومت رياض ميں آل سعود کے خلاف مظاہرے کئے ہيں۔

ابنا: يہ مظاہرے عين اس وقت ہوئے جب انساني حقوق کے کارکن وليد ابو الخير نے عدالتي کاروائي کے دوران اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کي صحت سے انکار کرديا ہے۔ابولخير کا کہنا تھا کہ ان پر شاہي حکومت کے خلاف سرگرميوں اور توہين عدالت کے الزامات ملک ميں انساني حقوق کے لئے کام کرنے سے روکنے کي غرض سے لگائے جارہے ہيں۔رياض کے علاوہ سعودي عرب کے ديگر شہروں ميں سياسي کارکنوں کي رہائي کے حق ميں مظاہرے ہوتے رہے ہيں۔

فروري دوہزار گيارہ سے سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے اور لوگ سياسي قيديوں کي رہائي، آزادي اظہار اور ووٹنگ کا حق ديئے جانے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہيں۔ قطيف اور مشرقي صوبے کے تيل سے مالامال علاقوں ميں عوام   مذہبي بنيادوں پر روا رکھے جانے والے امتيازي سلوک کے خاتمے کا بھي مطالبہ کر رہے ہيں۔عوامي مظاہرے کئي بار پوليس کي مداخلت کے نتيجے ميں پرتشدد رخ بھي اختيار کر چکے ہيں۔نومبر دوہزار گيارہ ميں ايسے ہي ايک مظاہرے کے دوران سعودي سيکورٹي اہلکاروں نے پرامن لوگوں پر فائرنگ کردي تھي جس ميں کم از کم پانچ افراد شہيد اور متعدد زخمي ہوگئے تھے۔.......

/169