اکثر مقامات پر جہاں خدا کی عبادت و بندگی اور وحدانیت پر ایمان لانے کا حکم ہے وہیں والدین پر احسان کا حکم بھی ہے:
آیات کریمہ:
آیات کریمہ اور احادیث شریفہ سے ثابت ہو کہ نہ صرف عقوق والدین (یعنی والدین کو آزار و اذيت دینا اور انہیں تکلیف پہنچانا) حرام اور گناہان کبیرہ میں سے ہے بلکہ ان پر احسان کرنا، ان کے ساتھ نیکی کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا بھی واجب ہے اور ان واجبات کو ترک کرنا حرام ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
"وَوَصَّيْنا الْاِنْسانَ بِوالِدَيْهِ اِحْساناً"۔
سوره احقاف ، آيت 15۔
ترجمہ: اور ہم نے انسان کو وصیت کردی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے۔
احسان یہاں حرف بـ کے ساتھ مذکور ہے جس سے مراد یہ ہے کہ یہ عمل خدا کے نزدیک اس قدر اہم ہے کہ اسے براہ راست اور بلاواسطہ انجام دینا پڑے گا۔
تفسير المنار، ج 8،ص 185. وتفسير نمونه، ج 6، ص 33۔
والدین کی شکرگزاری خدا کی نعمتوں کی شکرگزاری کی ردیف میں
والدین کے حقوق کتنے ہیں؟ کہاں تک ہیں؟ ان کی حد کیا ہے؟ ہم قرآن میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے والدین کی شکرگزاری کو اپنی نعمتوں کی شکرگزاری کے زمرے میں اور فورا بعد، ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کے حقوق کی حدود اور وسعت کس قدر ہے:
آيات کریمہ:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُواْ لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلاَّ قَلِيلًا مِّنكُمْ وَأَنتُم مِّعْرِضُونَ.
سورہ بقرہ آیت 83۔
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا ( ہرگز) کسی کی پرستش نہ کرنا اور اپنے والدین اور اسی طرح قرابتداروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا اور لوگوں کے ساتھ اچھی باتیں کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوۃ دیتے رہنا ، لیکن تم میں تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ سب (عہد سے ) پھرگئے اور تم لوگ تو منہ موڑ لیتے ہی ہو۔
وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا۔
سورہ نساء آیت 36۔
ترجمہ: خدا کی پرستش کرو اور کسی چیز کو بھی اس کے شریک قرار نہ دو اور اپنے ماں باپ پر احسان کرو نیز اپنے اقارب، یتیموں، مسکینوں، قریبی پڑوسیوں اور دور کے پڑوسیوں اور دوستوں اور مصاحبین (ہم نشینوں اور سفر میں رہنے والے (ابناء السبیل) اور ان غلاموں پر جن کے تم مالک ہو؛ کیونکہ خداوند متعال متکبرین اور فخر فروشوں کو [جو دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے انکاریوں] کو دوست نہيں رکھتا۔
لاَّ تَجْعَل مَعَ اللّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَّخْذُولًا ٭ وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ٭ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔
سورہ بنی اسرائیل آیات 22 تا 24۔
ترجمہ: اﷲ کے ساتھ دوسرا معبود نہ بنا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور) بے یار و مددگار ہو کر بیٹھا رہ جائے گا ٭ اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو٭ اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ * وَإِن جَاهَدَاكَ عَلى أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ.
سورہ لقمان آیات 14 اور 15۔
ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں (نیکی کا) تاکیدی حکم فرمایا، جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف کی حالت میں (اپنے پیٹ میں) برداشت کرتی رہی اور جس کا دودھ چھوٹنا بھی دو سال میں ہے (اسے یہ حکم دیا) کہ تو میرا (بھی) شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ (تجھے) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ٭ اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا، اور دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھے طریقے سے ساتھ دینا، اور (عقیدہ و امورِ آخرت میں) اس شخص کی پیروی کرنا جس نے میری طرف توبہ و طاعت کا سلوک اختیار کیا۔ پھر میری ہی طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کر دوں گا جو تم کرتے رہے تھے۔
احادیث:
عن منصور بن حازم عن ابيعبدالله عليهالسلام قال: قلت: اي الاعمال افضل؟ قال: الصلوه لوقتها (اي وقت فضلها) و برالوالدين و الجهاد في سبيل الله.
بحار الانوار ـ جلد 45 صفحہ 75۔
ترجمہ: منصور بن حازم